سچ کے ساتھ کھڑا ہوں : بھارتی اداکار پرکاش راج کا طلبہ کے احتجاج پر بیان

Wait 5 sec.

نئی دہلی : بھارتی فلموں کے معروف اداکار پرکاش راج بھی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے دھرنے میں بیٹھنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے احتجاج میں شامل ہوگئے۔بھارت میں امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج میں معروف اداکار پرکاش راج نے دہلی کے جنتر منتر میں طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پر احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔اس موقع پر بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ وہ یہ سب ملک کے لیے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے اطمینان کے لیے کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی جیسی شخصیات کی خدمات کے مقابلے میں ان کا کردار بہت معمولی ہے، تاہم انسان کو اپنی دیانت اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں سچ کے ساتھ کھڑا ہوں، اس لیے مجھے کسی کا خوف نہیں، جھوٹ بولنے سے ڈرنا چاہیے، سچ کہنے سے نہیں۔اداکار نے مزید کہا کہ اگر انسان سچ بولنے سے ڈرنے لگے تو یہ ان نظریات کے خلاف ہے جن کی تعلیم بھگت سنگھ جیسے رہنماؤں نے دی تھی۔پرکاش راج بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام ہیں، انہوں نے بالی ووڈ اور جنوبی بھارتی فلموں میں ولن، بااثر سیاست دان اور سخت مزاج کردار ادا کیے لیکن حقیقی زندگی میں وہ مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ان کی شرکت کو طلبہ نے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ معروف شخصیات کی حمایت سے ان کے مطالبات اور مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیکس کے خلاف جاری تحریک کو بھارتی فلم انڈسٹری کی متعدد معروف شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے۔اداکارہ سوارا بھاسکر، اداکار نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی اور رتنا پاٹھک شاہ نے بھی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر تنقید کی ہے۔رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ اور کرینہ کپور خان نے بھی بیانات جاری کرتے ہوئے طلبہ کی حمایت کا اظہار کیا اور مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب سماجی کارکن سونم وانگچک نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ سے ملاقات کے بعد اپنا 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔