ٹرمپ کے پاس ایران سے نمٹنے کے 2 آپشن؟ ثالث ممالک کی نئی جنگ بندی کی کوششیں

Wait 5 sec.

واشنگٹن (21 جولائی 2026): امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک طرف ایران کے لیے ثالث ممالک نئی جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ مکمل جنگ کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں، امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس تنازع کے 2 ہی قابلِ عمل راستے نظر آتے ہیں۔پہلا آپشن یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے مقصد سے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے، اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی کارروائی کی جائے تاکہ تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ طے ہو جائے گا کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے گا، کیوں کہ خلیجی خطے کو مفلوج کرنے والی طویل اور غیر یقینی جنگ کے لیے اب بہت کم گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ایران کا خطے میں امریکی ریڈار نگرانی پر بڑے وار کا دعویٰایکسیوس کے مطابق براہِ راست معلومات رکھنے والے دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ قطر، مصر، پاکستان اور دیگر ثالث ممالک نے امریکا اور ایران کے سامنے ’’10 روزہ جنگ بندی‘‘ کی ایک تجویز پیش کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے اور اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو سفارتی کوششوں کو ناکام بنا سکتے ہوں۔تاہم واشنگٹن بہ یک وقت اس امکان کی بھی تیاری کر رہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ امریکی فوج نے گزشتہ چند روز میں درجنوں جنگی طیارے اور فضائی ایندھن بردار طیارے خطے میں بھیجے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جا سکے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق آئی ڈی ایف ہائی الرٹ پر ہے اور آئندہ چند روز میں جنگ کو مکمل اور مربوط فوجی مہم میں تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی مسلسل دس راتوں کی بمباری کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت ختم نہیں ہو سکی، جس سے ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں مزید الجھ گئے ہیں جسے وہ کئی بار ’’جیت چکے‘‘ ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ تازہ لڑائی میں کم از کم 3 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انھوں نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ ہر امریکی فوجی کی ہلاکت کی قیمت ایران سے کئی گنا زیادہ وصول کی جائے۔ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں اور خلیجی تنصیبات پر حملوں میں اضافے کے بعد ہفتے کے آخر میں خام تیل کی قیمت عارضی طور پر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جب کہ پٹرول کی قیمتوں میں بھی دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے، جس سے پہلے ہی غیر مقبول جنگ کے خلاف اندرونِ ملک ردعمل مزید بڑھ رہا ہے۔ایران پر دسویں رات بمباری، سینٹکام کا 900 جہاز اپنی حفاظت میں گزارنے کا دعویٰدوسری طرف علاقائی ثالث ایک بار پھر اس انتقامی کارروائیوں کے سلسلے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ہر نئے حملے کے ساتھ زیادہ مہلک، مہنگا اور قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق جنگ 10 روز کے لیے روک دی جائے گی، آبنائے ہرمز کی دونوں بحری گزرگاہیں دوبارہ کھول دی جائیں گی، امریکا اور ایران کو اپنے بکھرتے ہوئے ایم او یو کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات کا موقع ملے گا۔تاہم، اب تک نہ امریکا نہ ہی ایران نے اس تجویز کو قبول کیا ہے، دونوں فریق جنگ بندی پر رضامندی سے پہلے مزید حملوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی بندرگاہوں کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خلیجی توانائی کے ڈھانچے اور بحری راستوں پر ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔