دہلی کے بعد پٹنہ میں بھی مظاہرین طلبا پر پولیس کی بربریت، آنسو گیس اور واٹر کینن کا ہوا استعمال

Wait 5 sec.

دہلی میں گزشتہ روز ’پارلیمنٹ ہاؤس مارچ‘ کے دوران جس طرح کی تصویر سامنے آئی تھی، کچھ ویسا ہی نظارہ 22 جولائی کو بہار کی راجدھانی پتنہ میں دیکھنے کو ملا۔ بایاں محاذ کی طلبا تنظیم ’آئیسا‘ نے بدھ کی صبح راج بھون (گورنر ہاؤس) مارچ نکالا جس میں بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بلند کیے گئے۔ اس دوران گاندھی میدان کے پاس پٹنہ پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔VIDEO | Patna, Bihar: Police use tear gas and water cannon against AISA workers protesting over NEET paper leak issue.(Full video available on PTI Videos - https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/x42XojQODG— Press Trust of India (@PTI_News) July 22, 2026میڈیا رپورٹس کے مطابق گاندھی میدان کے ہوٹل موریہ کے پاس پولیس کی طرف سے روکے جانے کے بعد طلبا اور پولیس میں تصادم ہو گیا۔ مظاہرین طلبا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور واٹر کینن سے پانی کی بوچھار کی۔ اس سے علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ کچھ نوجوان پولیس کی اس کارروائی سے اِدھر اُدھر بھاگتے دکھائی دیے، لیکن بیشتر مظاہرین ڈٹ کر کھڑے رہے۔Bihar: Police use tear gas and water canons to crack down on protest by AISA in Patna to demand Dharmendra Pradhan's resignation #Patna #AISA #Bihar #StudentProtest #PoliceAction #DharmendraPradhan #Politics(Video:PTI) pic.twitter.com/hHcoRtEWKj— Deccan Chronicle (@DeccanChronicle) July 22, 2026قابل ذکر ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملہ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس معاملہ میں ’آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسو سی ایشن‘ (آئیسا) کی طرف سے پٹنہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ دہلی کے جنتر منتر پر ہو رہے احتجاجی مظاہرہ کو آئیسا نے حمایت دیتے ہوئے پٹنہ کی سڑکوں پر زوردار احتجاج درج کرایا۔ اس مظاہرہ کے دوران کئی طلبا نے میڈیا اہلکاروں پر بھی اپنا غصہ نکالا۔ کئی چینل کے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔छात्र अधिकारों के लिए प्रदर्शन कर रहे नेता विपक्ष श्री राहुल गांधी को हिरासत में ले लिया गया। ये न सिर्फ लोकतंत्र का अपमान है, बल्कि मोदी सरकार के तानाशाही रवैये का सबूत भी है। आज इसी के विरोध में मध्य प्रदेश के CLP नेता @UmangSinghar जी के नेतृत्व में विधानसभा स्थित… pic.twitter.com/esh37oRRIX— Congress (@INCIndia) July 21, 2026देश में लगातार हो रहे पेपर लीक के खिलाफ देश का युवा सरकार से जवाब मांग रहा है। आज नेता विपक्ष राहुल गांधी जी ने छात्रों के हित के सवालों को बुलंद किया, लेकिन सवाल से घबराने वाली मोदी सरकार ने उन्हें हिरासत में ले लिया। आज उत्तराखंड कांग्रेस के साथियों ने मोदी सरकार के इस… pic.twitter.com/luc3442B7Y— Congress (@INCIndia) July 21, 2026دراصل مرکز کی مودی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف طلبا کی ناراضگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے جاری مظاہرہ کی حمایت میں ملک کی مختلف ریاستوں کے طلبا بھی مقامی سطح پر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ ان طلبا کو اپوزیشن پارٹیوں کی بھی زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ راہل گاندھی، اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی جیسے لیڈران بھی طلبا کی حمایت میں کل سڑکوں پر دکھائی دیے تھے۔ انھیں حراست میں بھی لے لیا گیا تھا، لیکن دیر شام انھیں رِہا کر دیا گیا۔ اس حراست کے خلاف مدھیہ پردیش میں کانگریس لیڈر امنگ سنگھار کی قیادت میں اسمبلی واقع وزیر اعلیٰ رہائش کے باہر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح اتراکھنڈ میں بھی کانگریس کارکنان نے مودی حکومت کو تاناشاہ قرار دیتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا اور ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے ہماچل میں ایک احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کی۔मोदी सरकार ने देश में तानाशाही कायम कर रखी है।छात्रों की आवाज उठा रहे नेता विपक्ष राहुल गांधी जी के साथ ही कांग्रेस के नेताओं को हिरासत में लिया जाना लोकतंत्र का काला दिन है। आज सरकार के इस मनमाने रवैये के खिलाफ हिमाचल प्रदेश के मुख्यमंत्री @SukhuSukhvinder जी और प्रदेश… pic.twitter.com/tzV48qQHRs— Congress (@INCIndia) July 21, 2026