نئی دہلی (22 جولائی 2026): بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہول گاندھی کو گرفتاری کے بعد زمین پر گھسیٹ کر لے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔طلبہ کے حق میں کیے جانے والے احتجاج میں وزیراعظم مودی کے باہر دھرنا دے کر احتجاج کرنے والے کانگریس رہنما اور بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو گرفتاری کے بعد اگرچہ رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی گرفتاری کے وقت کی ایک ویڈیو نے پورے بھارت میں ہلچل مچا دی ہے۔کانگریس نے گزشتہ روز راہول گاندھی کی گرفتاری کے وقت کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں، جس میں مودی حکومت کے فاشسٹ اقدامات پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار راہول گاندھی کو گرفتاری کے بعد زمین پر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے ہیں جب کہ اس دوران کچھ صحافی ان سے صورتحال پر موقف لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس موقع پر راہل گاندھی نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا، "Democracy in India happening right now” (اس وقت ہندوستان میں جمہوریت کی حقیقت آپ کے سامنے ہے)۔ اس کے علاوہ کانگریس نے ایک تصویر بھی جاری کی ہے، جس میں پولیس حکام راہول گاندھی کو گرفتاری کے بعد اٹھائے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ ان کے اطراف میں سکیورٹی عہدیدار اور دیگر افراد موجود ہیں۔کانگریس نے اس تصویر کے ساتھ لکھا، "مودی کے دور میں جمہوریت کچھ ایسی دکھائی دیتی ہے۔”کانگریس کا الزام ہے کہ طلبہ کے حق میں آواز بلند کرنے پر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔ حکومت جمہوری احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو دہلی پولیس نے رہا کردیا