’سماعت کو بار بار ملتوی کرانا غیر مناسب، یہ عمل عدالت کے وقار کے خلاف ہے‘، الہ آباد ہائی کورٹ وکلاء پر برہم

Wait 5 sec.

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے مقدمات کی سماعت بار بار ملتوی کرانے اور بغیر کسی مناسب جواز کے کورٹ میں موجود نہیں رہنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ یہ عمل وکالت کے پیشے کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ کچھ معاملوں میں قصداً سماعت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے زیر التوا مقدمات کا بوجھ بڑھتا ہے، جس سے انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ جسٹس سبھاش ودیارتھی کی بنچ نے یہ تبصرہ شراوستی کے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ سے متعلق ایک فوجداری مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کیا۔ بنچ نے کہا کہ ’’نچلی عدالتوں یا ٹریبونلز میں مصروف ہونے کا بہانہ بنا کر بار بار سماعت ملتوی کرانا اور بغیر کسی وجہ کے عدالت میں پیش نہ ہونا، وکلا کی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے احترام میں کمی اور عدالت کے وقار کے تئیں عدم احترام کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ وکالت کے پیشے کے گرتے معیار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘‘جسٹس ودیارتھی نے کہا کہ ’’لہٰذا بنچ بار کے اراکین سے درخواست کرتا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے ذمہ دار افسران کے طور پر اپنے کردار کی اہمیت کو سمجھیں، معاونت کی سطح کو بہتر بنائیں اور بے بنیاد یا معمولی وجوہات کی بنا پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست نہ کریں، کیونکہ اس سے بنچ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور فوری انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بعض معاملات میں نئے مقدمات کی سماعت قصداً نہیں ہونے دی جاتی ہے، تاکہ وہ بغیر کسی مؤثر عدالتی حکم کے زیرِ التوا رہیں، جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد مصنوعی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نچلی عدالتیں اکثر صرف اس بنیاد پر کارروائی ملتوی کر دیتی ہیں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، حالانکہ ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا گیا ہوتا، جس کی وجہ سے انصاف ملنے میں تاخیر ہوتی ہے۔جسٹس سبھاش ودیارتھی نے یہ تبصرہ شراوستی کے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ سے متعلق ایک اپیل کو خارج کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے شراوستی کے خصوصی جج (ایس سی/ایس ٹی ایکٹ) کے اس حکم کو برقرار رکھا، جس میں فوجداری ضابطۂ کار (سی آر پی سی) کی دفعہ 319 کے تحت انکت یادو کو ایڈیشنل ملزم کے طور پر طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ یہ معاملہ 2022 میں درج ایک مقدمے سے متعلق ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ رام سریش یادو اور ان کے بیٹے انکت یادو نے شکایت کنندہ اور اس کے بیٹے کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں ذات پات کی بنیاد پر گالیاں دیں۔ تفتیش کے بعد پولیس نے صرف رام سریش یادو کے خلاف چارج شیٹ داخل کی اور کہا کہ انکت یادو کے خلاف کافی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ نے فوجداری ضابطۂ کار (سی آر پی سی) کی دفعہ 319 کے تحت انکت یادو کو ایڈیشنل ملزم کے طور پر طلب کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ایس سی/ایس ٹی مقدمات کی خصوصی عدالت نے پایا کہ زخمی چشم دید گواہ نے واضح طور پر بیان دیا تھا کہ جائے وقوعہ پر رام سریش یادو کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔ اپیل کنندہ نے بھی انکت یادو کے کسی مخصوص کردار کا ذکر نہیں کیا تھا۔ انہی حقائق کی بنیاد پر خصوصی عدالت نے درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد یہ اپیل دائر کی گئی۔ اپیل کو خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 319 کے تحت ملی طاقت غیر معمولی ہے اور اس کا استعمال تبھی کیا جا سکتا ہے، جب صرف شروعاتی معاملے سے زیادہ مضبوط ثبوت ہوں۔ بنچ نے کہا کہ اس معماملے میں انکت یادو کو ایڈیشنل ملزم کے طور پر بلانے کو صحیح ٹھہرانے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے۔ اس لیے بنچ کو خصوصی عدالت کے حکم میں ایسی کوئی کمی نہیں ملی، جس کے لیے اپیل کی سطح پر دخل اندازی کی ضرورت ہو۔