ریاض (25 جولائی 2026): سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول مغربی شہر الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات اور کمران جزیرے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ترجمان سعودی رائل فورسز ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یہ کارروائی حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے پر کی گئی ہے۔حوثی ٹی وی المسیرہ نے بھی الحدیدہ پر سعودی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حوثیوں کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول شہر الحدیدہ پر فضائی حملے کیے۔وزارت نے خبردار کیا کہ جمعہ کی شب کیے گئے اس حملے کی قیمت ریاض کو چکانا پڑے گی، اور اشارہ دیا کہ حوثی ان حملوں کا جواب دیں گے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا الحدیدہ کو نشانہ بنا کر سعودی حکومت نے آئندہ مرحلے کی بنیادی خصوصیت ’’شدت کے جواب میں مزید شدت‘‘ کو بنا دیا ہے۔بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران کے اندر حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰحوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی کے مطابق حملوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ چینل نے جزیرہ کمران پر بھی حملوں کی اطلاع دی۔ المسیرہ ٹی وی کے مطابق جزیرہ کمران پر حملے میں اب تک ایک خاتون کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر بھی دھماکے سنے گئے، تاہم یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔الحدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے علاقوں کے لیے ایک نہایت اہم رسد گاہ ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے شمالی یمن میں، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، تجارتی سامان اور انسانی امداد کا زیادہ تر حصہ پہنچایا جاتا ہے۔یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کشیدگی کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر ان کے حملوں کو ’’بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ المالکی نے کہا کہ اگر حوثی اپنی ’دشمنانہ کارروائیاں‘ جاری رکھتے ہیں تو ان کا جواب ’بلا جھجک دیا جائے گا۔‘