ترکی سے روانہ ہوتے وقت صدر ٹرمپ نے اچانک طیارہ تبدیل کر دیا تھا، انکشاف

Wait 5 sec.

واشنگٹن (25 جولائی 2026): نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے روانگی کے وقت سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔امریکی اخبار کا کہنا ہے یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ ترکی سے روانگی کے وقت اچانک اپنا طیارہ تبدیل کر لیا تھا کیوں کہ حکام کو ایک دھمکی ملی تھی کہ ایرانی پراکسی فورسز انھیں اور ایئر فورس ون کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شریک تھے، وہ قطر کی جانب سے تحفتاً دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کے ذریعے انقرہ پہنچے تھے، لیکن یہ جہاز جدید حفاظتی نظام سے مکمل طور پر لیس نہیں تھا، جس کے باعث پرانے طیارے کو ترجیح دی گئی۔جب امریکی حکومت کو اس دھمکی کا علم ہوا تو سیکرٹ سروس نے صدر ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ بعد میں انھوں نے اعلان کیا کہ وہ ملک سے روانگی کے لیے پرانا طیارہ استعمال کریں گے۔بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران کے اندر حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران سے وابستہ گروہ انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، ٹرمپ پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ ایران سے منسلک عناصر ان کے قتل کی کوشش کر سکتے ہیں، انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی جان لینے کی کوئی کوشش کی گئی تو ایران کو بہت سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بڑی تیزی سے طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھمکی سنجیدہ نوعیت کی تھی، اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قطری طیارے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات موجود تھے۔طیارہ تبدیل کیے جانے کے وقت ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل نے امریکا کے ساتھ ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی کوششوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات شیئر کی تھیں۔ بعض امریکی حکام نے اسرائیلی معلومات پر شکوک کا اظہار کیا اور سمجھا کہ یہ ٹرمپ کو ایران کے خلاف حملے مزید تیز کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔