واشنگٹن (25 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے ایران ابھی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں سالانہ وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ’’وہ اس وقت ہم سے بات کر رہے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی اس کے لیے تیار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ابھی وقت نہیں آیا، لیکن میں ان کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم، انھیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائی نے ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، انھوں نے کہا ہم نے ایران کو بہت سخت ضرب لگائی ہے، ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ بھی ختم ہو چکی ہے، ان کے 250 طیارے اب نہیں رہے اور 159 کشتیاں سمندر کی تہہ میں جا چکی ہیں۔بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران کے اندر حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰانھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’’ان کے پاس اب کوئی ریڈار نہیں، ان کے پاس بہت کم ڈرون باقی بچے ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھار آپ کچھ دیکھتے ہیں، وہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کے پاس زیادہ کچھ باقی نہیں بچا۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اصل معاملہ صرف یہ ہے کہ ہم انھیں ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ ضرور استعمال کرتے، وہ یقیناً انھیں استعمال کرتے۔