’طلبا کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک ہو رہا‘، سونیا گاندھی نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر اٹھائے سوال

Wait 5 sec.

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طلبا صرف جوابدہی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مطالبات پورے کرنے کی جگہ ایسا سلوک کر رہے ہیں جیسے یہ طلبا ملک کے دشمن ہیں۔ کانگریس لیڈر نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ طلبا کے ساتھ کھڑے ہوں۔"The Modi government routinely uses violence in preference to dialogue. The pattern is clear, from farmers to activists.The Modi government has not just degraded India’s education landscape but has also made a habit of acting with utter impunity, supreme self-delusion, and… pic.twitter.com/M2wOh6ETsH— Congress (@INCIndia) July 24, 2026یہ بیان کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون بعنوان  (ترجمہ) ’تعلیمی نظام کا زوال، نوجوان ہندوستان کی اذیت‘ میں دیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملک کے طلبا تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان کی جرأت کا جواب ’بزدلی اور بلاوجہ کی بربریت‘ سے دیا ہے۔سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت طلبا کو ملک کا مستقبل سمجھنے کے بجائے ان کے ساتھ ملک کے دشمنوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبا نے حکومت کے تعلیمی نظام سے متعلق دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ وہ اپنے مضمون میں یہ بھی لکھتی ہیں کہ آج کا تعلیمی نظام نوجوانوں کو امید نہیں بلکہ مایوسی دے رہا ہے۔ طلبا کی تحریک 2 وجوہات کا نتیجہ ہے۔ پہلی… ایسا تعلیمی نظام جس نے نوجوانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے، اور دوسری… مودی حکومت کا تکبر، جو جوابدہی طے کرنے اور اصلاحی اقدامات کرنے سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت طلبا کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہر سیاسی پارٹیوں اور معاشرے کی اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے۔اصل تنازعہ خواتین ریزرویشن نہیں بلکہ حدبندی کا ہے....سونیا گاندھیسونیا گاندھی نے طلبا مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے دائرۂ اختیار میں کام کرنے والی پولیس نے طلبا کے ساتھ بربریت کی ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے 2020 کے سی اے اے-این آر سی مخالف احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھی یونیورسٹی کیمپسوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کارروائی کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین پہلوانوں کی تحریک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی ملک نہیں بھولا ہے۔سونیا گاندھی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا تعلیمی نظام مسلسل کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک، شفافیت کی کمی اور طلبا میں بڑھتی ہوئی مایوسی جیسے مسائل شدید تشویش کا موضوع ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو طلبا کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیمی نظام میں بروقت اصلاحات نہیں کی گئیں تو اس کا اثر صرف طلبا پر نہیں بلکہ ملک کے مستقبل پر بھی پڑے گا۔