راجدھانی دہلی میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے درمیان دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) نے طلبا اور اساتذہ کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ یونیورسٹی نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک ہونے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ڈی یو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف طلبا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے تعلیمی ریکارڈ اور مستقبل کے پیشہ ورانہ کیریئر پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طلبا کو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی گمراہ کن اور فرضی خبروں سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔Breaking Stay away from Jantar Mantar protests, Delhi University tells students, faculty, warns of legal action, academic consequencesAs students across the country continue to take to the streets over the education crisis, Delhi University has issued an advisory urging… pic.twitter.com/FoArdgCXw8— Maktoob (@MaktoobMedia) July 23, 2026دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبا اور اساتذہ سے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر کسی بھی غیر مجاز دھرنے یا احتجاج کا حصہ نہ بنیں۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت جنتر منتر علاقے میں احتجاج سے متعلق خصوصی ضابطے نافذ ہیں۔ اگر کوئی شخص غیر قانونی اجتماع میں شریک ہوتا ہے تو اس کے خلاف انتظامیہ اور پولیس قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ طلبا اور اساتذہ کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔ ایسے اجتماعات میں شرکت سے ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیشہ ورانہ مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے تمام طلبا سے قانون کی پابندی کرنے اور محفوظ رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ڈی یو انتظامیہ نے طلبا کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی افواہوں اور گمراہ کن معلومات سے بھی محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق بعض عناصر حالات کو بھڑکانے کے لیے جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی اطلاع پر یقین کرنے یا اسے آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔Dear students and faculty, your safety matters to us. Please note that any unlawful assemblies or demonstrations at Jantar Mantar, New Delhi, which are strictly regulated as per the directives of the Hon’ble Supreme Court of India, may invite legal action. Such activities can…— University of Delhi (@UnivofDelhi) July 23, 2026واضح رہے کہ نیٹ یو جی امتحان میں پیپر لیک کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔ اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈران نے طلبا کی حمایت میں مارچ نکالا اور تعلیمی نظام میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔