پیپر لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج کے درمیان راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے مرکزی حکومت سے انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات کو لے کر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ سخت برتاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ سبل نے حکومت سے گزارش کی کہ مظاہرین تک بغیر کسی رکاوٹ کے کھانا پہنچنے دیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے، جو تحریک کو مزید بھڑکانے کا سبب بنیں۔Jantar MantarAppeal to Government Don’t be so utterly heartless Freely allow food to reach our childrenDon’t :tell eateries not to supply foodshut down the internetharass people coming to the siteby such actions fuel the protest Remember all power is temporary !— Kapil Sibal (@KapilSibal) July 25, 2026راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر حکومت سے جذباتی اپیل کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’حکومت سے میری اپیل ہے کہ اس قدر بے رحم مت بنیے۔ ہمارے بچوں تک بلا روک ٹوک کھانا پہنچنے دیجیے۔‘‘ اپنی پوسٹ میں کپل سبل مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں کو کھانا فراہم کرنے سے نہ روکیے۔ انٹرنیٹ بند نہ کیجیے۔ احتجاجی مقام پر آنے والوں کو ہراساں نہ کیجیے۔ ایسے اقدامات سے احتجاج کو مزید نہ بھڑکائیے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں سینئر وکیل کپل سبل نے لکھا کہ ’’یاد رکھیے، ہر اقتدار عارضی ہوتا ہے!‘‘मेट्रो बंद करो।रास्ते बंद करो।दुकानें बंद करो।Internet बंद करो।खाना बंद करो।अपना हक़ मांग रहे छात्रों के ख़िलाफ़ सरकार ने ये क्रूर कदम उठाए।बस एक चीज़ बंद नहीं कर पाए, मोदी जी - पेपर लीक।— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 25, 2026سینئر وکیل کپل سبل سے قبل لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی مظاہرین طلبہ کے حق میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے حکومت کے سخت رویے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میٹرو بند کرو۔ راستے بند کرو۔ انٹرنیٹ بند کرو۔ کھانا بند کرو۔ اپنا حق مانگ رہے طلبہ کے خلاف حکومت نے یہ ظالمانہ اقدامات اٹھائے۔‘‘ اپنی پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’بس ایک چیز بند نہیں کر پائے مودی جی، پیپر لیک۔‘‘