لکھنؤ: علی گنج آتشزدگی واقعے والی غیر قانونی عمارت پر چلا بلڈوزر، 15 طلبہ کی ہوئی تھی موت

Wait 5 sec.

لکھنؤ آتشزدگی معاملہ میں لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی جانب سے مسمار کرنے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ ایل ڈی اے نے اس عمارت کو گرانے کے لیے 15 دن کا نوٹس دیا تھا جس کی مدت آج ختم ہو گئی، جس کے بعد ایل ڈی اے نے اس غیر قانونی عمارت کو ہٹانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس دوران موقع پر بھاری تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔VIDEO | Lucknow Development Authority begins demolition of building in Aliganj area in which a fire incident in June killed 15 people.#Lucknow #LucknowNews(Full video available on PTI Videos - https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/OmdyroirJi— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2026علی گنج کی اسی عمارت میں آگ لگنے کی وجہ سے 15 لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے لیے رہائشی نقشہ پاس کرایا گیا تھا جبکہ یہاں تجارتی سرگرمیاں چل رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اس میں غیر قانونی تعمیر کی بات بھی سامنے آئی، جس کے بعد ایل ڈی اے نے عمارت کو منہدم کرنے کے لیے نوٹس دیا تھا۔ہفتے کی صبح تقریباً 7:30 بجے ایل ڈی اے کے تمام اعلیٰ افسران پولیس انتظامیہ کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ اس دوران 3 بلڈوزر اور ایک ہائیڈرولک مشین بھی لائی گئی، جس کے بعد اس عمارت کو گرانے کا کام شروع کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران ایل ڈی اے کے 45 افسران موقع پر موجود رہے جبکہ 100 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا، تاکہ کوئی افراتفری پیدا نہ ہو۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے پہلے پورے علاقے کی ناکہ بندی کی گئی اور آس پاس سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت کو روک دیا گیا، جس کے بعد عمارت کو گرانے کا کام شروع ہوا۔ افسران کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے میں آج پورے دن کا وقت لگ سکتا ہے۔لکھنؤ آتشزدگی: 15 افراد کی جانیں لینے والی عمارت گرانے کا حکم، ایل ڈی اے عدالت نے دی منظوریواضح رہے کہ گزشتہ ماہ 22 تاریخ کو لکھنؤ کے علی گنج میں واقع ایک کوچنگ سنٹر میں آگ لگ گئی تھی۔ جس کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا تھا، واقعے کے دوران کئی طلبہ جان بچانے کے لیے عمارت سے کودتے ہوئے اور پائپ کے سہارے نیچے اترتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ اس حادثے میں 15 لوگوں کی دم گھٹنے سے موت ہو گئی تھی۔ اس آتشزدگی کے واقعے کے بعد سیکورٹی کو لے کر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔