اسلام آباد (25 جولائی 2026): پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایران جنگ میں امریکا اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔انھوں نے کہا سر کیئر اسٹارمر، جنھوں نے ایران کے خلاف امریکا۔اسرائیل جنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا، اچانک اور مشکوک انداز میں نااہلی کے الزامات کا سامنا کرنے لگے اور دباؤ کے تحت مستعفی ہو گئے۔رضا امیری نے ایکس پر لکھا ’’اِسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے شخص نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا اور انھوں نے فوری طور پر برطانوی اڈے امریکی فوج کے استعمال کے لیے فراہم کر دیے، جب کہ ایران سے برطانوی سفارت کاروں کو واپس بلا لیا۔ کیا یہ مشکوک بات نہیں ہے؟‘‘بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران کے اندر حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰپاکستان میں ایران کے سفیر نے سوال اٹھایا کہ سر کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ اور اس کے فوراً بعد کے اقدامات کیا مشکوک نہیں ہیں؟British Prime Minister Mr Keir Starmer, who refused to participate in the US-Israeli war against Iran, was suddenly and suspiciously accused of inefficiency and resigned under pressure. Another person from the same party assumed office as Prime Minister and he immediately…— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) July 24, 2026