نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے پیپر لیک کے معاملے اور طلبہ احتجاج پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ کے خلاف ظالمانہ اقدامات کر رہی ہے۔ احتجاج روکنے کے لیے میٹرو، سڑکیں، دکانیں، انٹرنیٹ یہاں تک کہ کھانے کی فراہمی بھی بند کر دی گئی، لیکن ایک چیز ایسی ہے جسے وہ بند نہیں کر سکے، اور وہ ہے مسٹر مودی کی ناکامی اور پیپر لیک کا تسلسل۔اس سلسلے میں راہل گاندھی نے طلبہ تنظیم ’آئیسا‘ کی قومی صدر نیہا بورا سمیت دیگر طلبہ کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور حکومت کو انہیں ہر حال میں ماننا ہوگا۔راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بدعنوان اور نااہل وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو محض وزارت بدلنے یا ادھر ادھر کرنے کے بجائے وزارت تعلیم سے مکمل طور پر ہٹایا جائے، کیونکہ وہ ملک کے بچوں کے مستقبل کی بربادی کی علامت ہیں۔طلبہ پر تشدد کرنے اور اس کارروائی کا انتظام کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اس پورے نظام کے سربراہ نریندر مودی کو طلبہ کے ساتھ کیے جانے والے تضحیک آمیز سلوک اور ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے پر قوم اور طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔راہول گاندھی نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو یقین دلایا کہ حکومت کی پوری طاقت یا اس کا کوئی بھی فرد انہیں پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو حربے آزمانے ہیں آزما لے، دھمکانے کی کوششیں کرے، لیکن ہم ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اس ملک کا روشن مستقبل ہیں، اور کوئی ان سے نہیں لڑ سکتا کیونکہ نریندر مودی ہندوستان کا ماضی ہیں، اور ماضی کبھی مستقبل سے نہیں جیت سکتا۔