مہاراشٹر ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس نے اس گروہ کے ماسٹر مائنڈ وجیندر کمار گپتا کو بہار سے گرفتار کیا ہے۔ وجیندر کمار گپتا نے اپنے ساتھی سونو کے ساتھ مل کر پرنٹنگ ہاؤس کے ملازمین کو رقم اور جائیداد کی لالچ دے کر سوال نامہ حاصل کیا تھا۔ پیپر جوتے میں چھپا کر پرنٹنگ ہاؤس سے باہر نکالا گیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹی ای ٹی کا پیپر 8 ہزار روپے میں حاصل کیا گیا تھا، جسے بعد میں بھیونڈی اور مہاراشٹر کے پونے میں فروخت کیا گیا۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لیک شدہ پرچے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت کیے گئے۔ تاہم بھیونڈی پولیس نے خود خریدار بن کر ٹی ای ٹی کا پرچہ فروخت کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا۔ اس معاملے میں اب تک 13 ملزمین گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس سے قبل 12 ملزمین کو عدالتی تحویل میں بھیجا جا چکا ہے۔ بھیونڈی پولیس بہار سے وجیندر کمار گپتا کو گرفتار کرکے پونے ہوائی اڈے لے آئی ہے۔ ملزم کو جلد ہی پونے ایئرپورٹ سے بھیونڈی منتقل کیا جائے گا اور پولیس اسے بھیونڈی لے کر پہنچے گی۔ مہاراشٹر ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملے میں کپل دہیا سمیت مزید 3 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد گرفتار ملزمین کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔ The alleged mastermind behind the Maharashtra Teacher Eligibility Test (#TET) paper leak, #BijendraGupta, has been arrested by the… pic.twitter.com/CKc8jzSdTs— IndiaToday (@IndiaToday) July 25, 2026مہاراشٹر ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے جمعرات کے روز مزید 3 ملزمiن کو گرفتار کیا، جن میں مفرور ملزم کپل دہیا بھی شامل ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ بھیونڈی کے کون گاؤں علاقے میں لیک پیپر خریدنے والے افراد تلاش کر رہا تھا۔ تحقیقات سے وابستہ ایس آئی ٹی کے ایک سینئر افسر نے انڈیا ٹی وی کو بتایا کہ کپل دہیا کافی عرصے سے مفرور تھا اور اس کے خلاف لک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) جاری کیا گیا تھا۔ اسے پنجاب کے پٹھان کوٹ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مرکزی ملزم کو فرار ہونے میں مدد کرنے کے الزام میں 2 مزید افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم وجیندر گپتا کو مفرور رہنے میں مدد دینے کے الزام میں سونو سنگھ اور متھن سنگھ کو بھی گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق بہار کے حاجی پور کا رہائشی سونو سنگھ مقامی بازار میں فوٹو کاپی کی دکان چلاتا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے وجیندر گپتا کی ہدایت پر جعلی شناختی کارڈ تیار کیے، لیک پیپر کی پرنٹنگ کی اور اپنی دکان سے ان کی متعدد نقول نکالیں۔پولیس نے سونو کے قبضے سے وجیندر گپتا کے جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد کیے ہیں۔ اسے اس کی دکان سے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق متھن سنگھ وجیندر گپتا کا سالا ہے، کیونکہ دونوں کی بیویاں سگی بہنیں ہیں۔ الزام ہے کہ وہ بھی اس سازش کا حصہ تھا اور کپل دہیا کے ساتھ پونے جا کر ٹی ای ٹی کے لیک پیپر کے ممکنہ خریدار تلاش کر رہا تھا۔ اسے پٹنہ سے گرفتار کیا گیا۔ کپل دہیا، متھن سنگھ اور سونو سنگھ کو جمعرات کے روز بھیونڈی لایا گیا، عدالت میں پیش کیا گیا اور 9 جولائی تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ اس سے قبل بھی 4 ملزمان گرفتار کیے جا چکے تھے۔ پولیس نے پہلے پٹنہ سے وجیندر گپتا کی بیوی سمن کماری کو گرفتار کیا تھا، جبکہ دھیرج سنگھ، آکاش کمار اور راجیو کمار کو 27 جون کو کون گاؤں میں مبینہ طور پر لیک شدہ ٹی ای ٹی پیپر فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ چاروں ملزمین 6 جولائی تک پولیس ریمانڈ پر تھے۔ پولیس کے مطابق وجیندر گپتا کا قریبی ساتھی کپل دہیا دھیرج سنگھ کے ساتھ کون گاؤں میں پرچے کے خریدار تلاش کرنے آیا تھا، تاہم گرفتاری سے ایک دن قبل وہ پونے چلا گیا۔ دھیرج، آکاش اور راجیو کی گرفتاری کی اطلاع ملنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر دہلی کی پرواز لی اور بعد ازاں روپوش ہو گیا۔پولیس کا الزام ہے کہ سمن کماری نے ایک ایپ پر مبنی میسجنگ پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے مفرور شوہر سے مسلسل رابطہ رکھا اور تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔ تحقیقات سے وابستہ ایک افسر کے مطابق سمن کماری کو پیپر لیک کی اطلاع اس وقت ملی، جب اس نے وجیندر گپتا کو فون پر اپنے ایک ساتھی سے اس ریکیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملنے کے بعد بھیونڈی کے ڈی سی پی پون بنسوڑے نے ایک خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران ایک پولیس انسپکٹر نے ممکنہ خریدار بن کر ملزمان سے رابطہ کیا۔ جب ملزمان کو یقین ہو گیا کہ انہیں گاہک مل گیا ہے تو انہوں نے وجیندر گپتا سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد گپتا نے راجیو کمار اور آکاش کمار کے ذریعے لیک شدہ پرچے کے چار سیٹ بھجوائے۔ پولیس نے کون گاؤں کے ایک ہوٹل میں جال بچھا کر دھیرج سنگھ، آکاش کمار اور راجیو کمار کو پرچہ فروخت کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق سازش میں شامل کپل دہیا اس وقت تک دوسرے خریدار کی تلاش میں پونے جا چکا تھا۔ تحقیقات کے دوران وجیندر گپتا کا مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق مہاراشٹر ٹی ای ٹی پیپر لیک کا ماسٹر مائنڈ وجیندر گپتا اس سے قبل بھی کئی ریاستوں میں پیپر لیک کے معاملات میں ملوث رہ چکا ہے اور قتل کے ایک مقدمے میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وجیندر گپتا کئی مرتبہ گرفتار ہوا، لیکن ہر بار ضمانت پر رہائی کے بعد فرار ہو جاتا تھا اور نئی شناخت اختیار کرکے کسی دوسری ریاست میں دوبارہ سرگرم ہو جاتا تھا۔