جنتر منتر پر جین زی کے معصومانہ سوالات

Wait 5 sec.

نئی دہلی (27 جولائی 2026): بھارت میں میمز سے تبدیلی کی دل چسپ مثال قائم ہوئی ہے، کاکروچ پارٹی کے احتجاج میں جین زی کا انداز پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بن گیا، مظاہرین نے معصومانہ سوالات، ریلز، وائرل ٹرینڈز اور بالی ووڈ کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچائے اور دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔وقت بدل چکا ہے، انداز بھی بدل گئے ہیں، اور اب احتجاج کا طریقہ بھی بدل گیا ہے، بھارتی راج دھانی دلی کے مشہور مقام جنتر منتر پر ہونے والا جین زی کا احتجاج روایتی احتجاج نہ تھا، نوجوانوں نے اسے فیسٹیول بنا ڈالا۔لاٹھی چارج کے لیے تیار پولیس اہلکاروں سے بچے معصومانہ سوالات پوچھتے رہے: ’’انکل آپ ہمیں کیوں مار رہے ہیں؟ انکل لاٹھی چارج کے وقت ہیلمٹ دوگے؟ یہ بندوق کیا کرتی ہے؟‘‘جنتر منتر پر موجود جین زی مسلسل پولیس اہلکاروں کے لیے درد سر بنی رہی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن چلائی تو طلبہ نے سڑک کو واٹر پارک بنا ڈالا۔ مظاہرین کو پانی کی توپ سے نہانے کا ایسا چسکا لگا کہ پولیس والوں سے پوچھتے رہے ’’دوبارہ واٹر کینن کب چلے گی؟ انکل پانی کب چالو ہوگا؟‘‘نیٹ امتحان میں کم نمبر آنے پر ایک اور طالبہ نے اپنی جان لے لی، خودکشی نوٹ وائرلکاکروچ پارٹی کے احتجاج میں چھوٹے سے بڑے کاکروچ تک شامل رہے، ’’میرا نام چھوٹا کاکروچ‘‘ ’’میں کاکروچ ۔۔ لکھنؤ سے آیا۔‘‘پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے بیریئر لگائے تو کسی نے اسے بیڈمنٹن کھیلنے کا ذریعہ بنایا تو کوئی بیریئر کو ہی گھر لے گیا۔ پولیس نے رسیوں سے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو جین زی اور پولیس میں رسہ کشی کا مقابلہ شروع ہو گیا، پولیس والوں نے آنسو گیس کے شیل برسائے تو مظاہرین ان سے فٹبال کھیلنے لگے۔ مصر سے آئی ممی اور اسپائیڈرمین نے بھی خوب ماحول گرمایا۔طلبہ کے سوالوں کا ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، مظاہرے میں بالی ووڈ کا رنگ بھی دکھائی دیا، اور بسنتی ڈانس دیکھنے کو ملا۔ احتجاج میں کسی نے مظاہرین کے موبائل چارج کرنے کے لیے پاور بینک دیے تو کوئی چھتری بانٹتا دکھائی دیا، کسی نے پاپڑ بانٹے تو کوئی وکس کی گولیاں لے آیا۔