راجدھانی دہلی میں احتجاج کے دوران طلبا پر پیلیٹ گن سے فائرنگ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں تحقیقات کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آر اے ایف کے ایک جوان نے پیلیٹ گن چلائی تھی۔ حالانکہ اس واقعہ پر سی آر پی ایف نے ابھی تک کوئی آفیشیل رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورس اس معاملے میں ایک تشخیصی رپورٹ، یعنی تفصیلی داخلی رپورٹ تیار کر رہی ہے، جس میں آر اے ایف کی کارروائی اور پورے آپریشن کا جائزہ لیا جائے گا۔موصولہ اطلاع کے مطابق 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران جنتر منتر اور کناٹ پلیس کے علاقے میں ہوئے طلبا کے احتجاج کے دوران آر اے ایف (ریپڈ ایکشن فورس) کے ایک جوان کی جانب سے پیلٹ راؤنڈ چلائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیلیٹ گن سے نکلنے والی گولیاں زمین سے ٹکرا کر بکھر گئیں، جس سے کچھ مظاہرین زخمی ہوئے۔ سی آر پی ایف کے مطابق احتجاج کے دوران 47 سے زیادہ آر اے ایف جوان بھی زخمی ہوئے، جن میں کچھ کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔حالات کو قابو میں کرنے کے لیے دہلی پولیس اور آر اے ایف نے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور بھیڑ کو قابو کرنے کے دیگر اقدامات کا استعمال کیا تھا۔ سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے آپریشن کے بعد پوسٹ ایونٹ اسیسمنٹ کرنا اس کے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کا حصہ ہے اور اسی عمل کے تحت اس کارروائی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ دہلی میں 20 جولائی کو ہوئے طلبا کے احتجاج کے دوران لاٹھی چارج اور طاقت کے استعمال کو لے کر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو گزشتہ 25 جولائی کو خط لکھا تھا۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ پرامن احتجاج کر رہے طلبا پر سیکورٹی فورسز نے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا اور پورے معاملے میں جوابدہی طے کی جانی چاہیے۔ اس خط میں راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ طلبا ایک منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ان کی بات سننے کے بجائے ان پر مبینہ طور پر مہلک ہتھیاروں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں سینکڑوں طلبا زخمی ہوئے اور مظاہرین طالبات کے ساتھ بھی مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔راہل گاندھی نے اپنے خط میں پیلٹ گن کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے لکھا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز شدید چوٹوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ انہوں نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچھب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید زخمی ہے اور اس کی ایک آنکھ کی بینائی جانے کا خطرہ بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک زخمی صحافی کا بھی ذکر اپنے خط میں کیا۔