احمد الشرع کا لبنان میں فوجی مداخلت نہ کرنے کا اعلان

Wait 5 sec.

بیروت (27 جولائی 2026): شام کے صدر احمد الشرع نے لبنان میں فوجی مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔شامی صدر احمد الشرع نے واضح کر دیا ہے کہ شام کا لبنان میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لبنان میں شامی فوجی کارروائی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔شامی صدر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام لبنان میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا، وہ لبنان میں مضبوط ریاستی اداروں کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات قانون کی حکمرانی کے تحت استوار ہوں۔انھوں نے کہا شام سرحدی سلامتی، مہاجرین اور اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، حزب اللہ کو بھیجے جانے والے اسلحے کی متعدد کھیپیں بھی روکیں، ہم نہیں چاہتے کہ لبنان میں کسی بھی عدم استحکام کے اثرات شام تک پہنچیں۔ایران نے حزب اللہ کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، مجتبیٰ خامنہ ایاحمد الشرع نے کہا کہ ان کا ملک لبنانی ریاست کو اس کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کئی ایسے متبادل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جنھیں وہ اپنی صوابدید کے مطابق استعمال کر سکتی ہے۔الشرع نے قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کے پروگرام ’’المقابلہ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’’دمشق لبنانی حکومت کے ساتھ ’متعدد حلوں‘ پر بات چیت کر رہا ہے، جو لبنان کو موجودہ بحران سے محفوظ راستے پر لانے اور شام کی موجودہ بحالی سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔‘‘انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ لبنان کے اندر جاری بدامنی شام پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا ’’لبنانی ریاست کے اختیار سے باہر ہتھیاروں کی مسلسل موجودگی پورے خطے کے لیے سنگین منفی نتائج کا باعث بنے گی۔‘‘ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ شام اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے، اسلحے پر اختیار رکھنے، اور جنگ و امن سے متعلق فیصلے کرنے کا واحد اختیار لبنانی ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہشامی صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا کہ دمشق کئی ممالک کی مدد سے اسرائیل کے ساتھ ایک سیکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ امید ہے اسرائیل کے ساتھ یہ معاہدہ ایک جامع امن کی جانب پیش رفت کا دروازہ ثابت ہو سکتا ہے۔الشرع نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایسا کوئی معاہدہ شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اپنے حق سے دست برداری کا باعث نہیں بنے گا، جن پر اسرائیل 1973 سے غیر قانونی طور پر قابض ہے۔انھوں نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ سے گریز کر رہا ہے، اور ایک سیکیورٹی انتظام بحران کے زیادہ وسیع اور جامع حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔