نیٹ پیپر لیک معاملے میں شروع ہونے والے طلبا کے احتجاج اور پھر پارلیمنٹ مارچ اب ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 20 جولائی کو ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے دوران مظاہرین اور طلبہ کے ساتھ جس طرح مارپیٹ کی گئی اور انہیں جس طرح کھدیڑا گیا، اس کے بعد حالات مزید سنگین ہو گئے۔ شبانہ اعظمی سے لے کر کُنیکا سدانند اور پرکاش راج تک جہاں جنتر منتر پہنچے تھے، وہیں کئی سلیبریٹیز طلبہ کی حمایت میں کھڑے ہوئے۔ اب تجربہ کار اداکار نصیرالدین شاہ نے حکومت پر حملہ بول دیا ہے۔ طلبہ کے ساتھ ہوئی مارپیٹ اور لاٹھی چارج پر نصیرالدین شاہ غصے سے پھٹ پڑے، لیکن ساتھ ہی رو بھی پڑے۔