یوکرین کے صدر زیلنسکی نے فوجی سربراہ کو برطرف کر دیا

Wait 5 sec.

کیف (22 جولائی 2026): یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے احتجاج کے بعد فوجی سربراہ کو برطرف کر دیا اور نیا سربراہ مقرر کر دیا۔صدر ولودیمیر زیلنسکی نے منگل کے روز جنرل اولیکساندر سِرسکی کو یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ یہ فیصلہ کیف اور ملک کے دیگر شہروں میں کئی دنوں تک جاری رہنے والے بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا گیا، جن میں مظاہرین ان کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق، زیلنسکی نے میخائیلو ڈریپاتی کو نیا فوجی سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا ’’ہماری مشترکہ خواہش ایک ہی ہے، دشمن پر فتح اور محاذ پر ایسے حالات پیدا کرنا اور روس پر ایسا دباؤ برقرار رکھنا جو روس کو امن کی طرف جانے پر مجبور کر دے۔‘‘ایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے، امریکی وزیر جنگیوکرینی رہنما نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ فوجی کمانڈروں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتوں کے بعد کیا۔ یہ ملاقاتیں اس وقت شروع ہوئیں جب احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، جن میں سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔مظاہرین کے نزدیک فیڈوروف فوجی جدت کاری کے محرک تھے، جب کہ وہ سِرسکی کی برطرفی کا بھی مطالبہ کر رہے تھے، کیوں کہ ان کے مطابق سِرسکی فوج میں پرانے سوویت طرز کے کمانڈ کلچر کی نمائندگی کرتے تھے۔زیلنسکی نے روس کے خلاف یوکرین کی جنگ میں سِرسکی کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور کیف کے دفاع، خارکیف اور کرسک میں کارروائیوں میں ان کے کردار کو سراہا۔ انھوں نے کہا ’’میں اولیکساندر سِرسکی اور اپنے ہر جنگجو کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یوکرین کے لیے محاذ پر مضبوط پوزیشنیں قائم رکھیں۔ میں میخائیلو ڈریپاتی کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اسی سوچ کو برقرار رکھیں گے۔‘‘منگل کے روز زیلنسکی نے الگ سے فیڈوروف سے بھی ملاقات کی اور انھیں حکومت میں ایک باوقار عہدے کی پیش کش کی، جسے انھوں نے ملک کے ٹیکنالوجی شعبے کو متحد کرنے والا کردار قرار دیا۔ تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ فیڈوروف نے یہ پیشکش قبول کی یا نہیں، اور آیا حالیہ اقدامات مظاہرین کو مطمئن کر سکیں گے اور سڑکوں پر جاری احتجاج ختم ہو سکے گا یا نہیں۔