’جین-زی‘ نے آج ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ چاہیں تو کسی بھی تاناشاہی کو جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جین-زی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کا سخت دباؤ ہی تھا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی پڑا۔ یعنی مودی حکومت جھکنے کو مجبور ہوئی اور کئی ہفتوں سے جاری طلبا کی تحریک کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی کی قیادت میں چل رہی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کو بھی ایک بڑی کامیابی ملی۔pic.twitter.com/VSArqS98OJ— Dharmendra Pradhan (@dpradhanbjp) July 25, 2026وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ کی جانکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دی ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں نوجوانوں کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر اور ملک میں جو حالات بنے ہیں، اس کا ملک مخالف طاقتیں فائدہ نہ اٹھائیں اس لیے استعفیٰ کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ملک میں یکجہتی بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایک نوٹ پوسٹ کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ مدت سے طلبا، اساتذہ اور تعلیمی اصلاح کے لیے وقف رہا ہوں۔ میرا ہمیشہ ہی بھروسہ رہا ہے کہ ایک مضبوط، مجموعی اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی مضبوط ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔نوجوانوں کے نام لکھے اپنے نوٹ میں انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار نہایت سلیقے سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں ملک کے نوجوانوں کی امیدوں، جذبات اور ان کے منصفانہ خواہشات کا احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہم سبھی کی سیاسی و سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’عزت مآب وزیر اعظم کی دور اندیشی بھری قیادت میں ملک کی خدمت کرنے کا جو موقع مجھے ملا، اس کے لیے میں وزیر عاظم کا بے حد مشکور ہوں۔‘‘