لندن: برطانیہ میں مسلمان مخالف واقعات میں تشویشناک اضافہ رپورٹ ہوا ، جہاں اوسطاً ہر 5 روز میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں مقیم مسلمانوں اور مساجد پر حملوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی، ’برٹش مسلم ٹرسٹ‘ اور برطانوی ’ہوم آفس‘ کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں مسلمان مخالف واقعات اور آن لائن نفرت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے بعد حکومت نے مساجد کی سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔’برٹش مسلم ٹرسٹ‘ کی رپورٹ میں کہا گہا کہ برطانیہ میں اوسطاً ہر 5 روز میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 70 سے زیادہ مساجد پر حملے کیے گئے۔اسلامو فوبیا اور حملوں کے سب سے زیادہ واقعات لندن، مانچسٹر اور برمنگھم میں دیکھنے میں آئے۔ صرف لندن میں 9 مختلف مساجد پر حملے ہوئے، جبکہ برمنگھم میں ایک ہی مسجد کو گزشتہ ایک سال کے دوران 3 بار نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے، ان پر جسمانی حملوں اور انٹرنیٹ پر آن لائن نفرت پھیلانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔برطانوی ہوم آفس (وزارتِ داخلہ) نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مسلمان مخالف واقعات میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔مساجد اور مسلم کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے اس سال مساجد کی حفاظت اور سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے 40 ملین پاؤنڈز (4 کروڑ پاؤنڈز) کے خصوصی فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ہوم آفس نے ان تمام مساجد کو، جو کسی بھی قسم کے خطرے کا شکار ہیں، سیکیورٹی فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے فوری درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ فنڈز جلد سے جلد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کا صرف محفوظ ہونا ہی نہیں، بلکہ ان کا خود کو محفوظ محسوس کرنا بھی برابر کی اہمیت رکھتا ہے، مسلمانوں کو اس وقت جن نفرت آمیز رویوں کا سامنا ہے، حکومت ان کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور اس فسطائیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔