مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر پر کانگریس نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نوجوانوں کی جیت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی جیت ہے، ہندوستان کے جین-زی کی جیت ہے۔ یہ جیت ان کروڑوں نوجوانوں کی ہے، جنھوں نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لیے آواز بلند کی۔‘‘धर्मेंद्र प्रधान का इस्तीफा युवाओं की जीत है, भारत के GEN Z की जीत है। ये जीत उन करोड़ों युवाओं की है, जिन्होंने देशभर में शिक्षा व्यवस्था को दुरुस्त करने के लिए आवाज बुलंद की।युवाओं के सत्य के सामने नरेंद्र मोदी का घमंड टूटा है, उनके झूठ की हार हुई है।युवाओं ने एक अयोग्य…— Congress (@INCIndia) July 25, 2026دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو کانگریس نے پی ایم مودی کے ’تکبر کا ٹوٹنا‘ بتایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نوجوانوں کے ’ستیہ‘ (سچائی) کے سامنے نریندر مودی کا گھمنڈ ٹوٹ گیا ہے، ان کے جھوٹ کی شکست ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’نوجوانوں نے ایک نااہل اور بدعنوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔‘‘قابل ذکر ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ مظاہرین طلبا اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس لیڈران و کارکنان کئی ہفتوں سے کر رہے تھے۔ شدید دباؤ کے بعد آج جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، تو کانگریس نے اسے ایک بہت بڑی کامیابی ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک ہونے کے پہلے دن سے ہی حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک نوجوانوں کو انصاف دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ آگے بھی جاری رہے گی، جب تک تعلیمی نظام میں اصلاح نہیں ہو جاتا۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کو ہمارے نوجوانوں پر لاٹھی چلوانے، پیلیٹ گن سے حملہ کرنے کے لیے معافی مانگنی ہی ہوگی۔‘‘مودی حکومت کانگریس اور جین-زی کے آگے جھکنے کو ہوئی مجبور، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے دیا استعفیٰکانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے بھی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو ہندوستان کے نوجوانوں کی فتح قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ہندوستانی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آپ کی طاقت نے نااہل، بدعنوان اور قصوروار دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ یہ عوام کی فتح ہے، ان تمام لوگوں کی جیت ہے جنہوں نے ہمارے نظام میں جوابدہی کے لیے جدوجہد کی۔‘‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں وینوگوپال نے لکھا ہے کہ ’’جس لمحہ سے نیٹ کا پرچہ لیک ہوا، کانگریس اور خصوصاً راہل گاندھی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اپوزیشن متحد ہو کر اس احتجاج کی قیادت کر رہی تھی اور سبھی کا مشترکہ مطالبہ جوابدہی تھا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے دیگر مطالبات میں ان لوگوں کو سزا دینا بھی شامل ہے جنہوں نے ہمارے طلبا پر حملہ کیا، اور طلبا کو درپیش مظالم پر وزیر اعظم کی جانب سے معافی مانگنا بھی۔‘‘VICTORY FOR INDIA'S YOUTH! Your power forced the incompetent, corrupt, and guilty Dharmendra Pradhan to resign!This is a victory of the people, a win for all those who fought for accountability in our system. Since the moment the NEET paper leaked, the Congress and…— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) July 25, 2026کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب تک ہم نظام میں انصاف نہیں لاتے، طلبا کو درپیش دباؤ کو کم نہیں کرتے اور تعلیم کے معیار کو بہتر نہیں بناتے، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ملک بھر کے ان کروڑوں طلبا کو زبردست سلام، جنہوں نے اس حکومت کو اپنی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا، اور راہل گاندھی کو بھی سلام، جو ان کے مقصد کے سب سے زیادہ پُرجوش، مخلص اور پُرعزم حامی بن کر کھڑے رہے۔‘‘