ایرانی ریال خریدنے والوں کیلیے بڑی خبر

Wait 5 sec.

کراچی / تہران (25 جولائی 2026): ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ تاحال برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ تاحال برقرار ہے۔اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر تقریباً 19 لاکھ 50 ہزار ریال تک پہنچ گیا، پاکستان میں بھی ایرانی ریال کی قیمت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ایران کے مرکزی بینک (سی بی آئی) کی جانب سے 25 جولائی 2026 کے لیے جاری کردہ سرکاری شرح مبادلہ کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ امریکی ڈالر، یورو اور پاکستانی روپے سمیت اہم غیر ملکی کرنسیاں ریال کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوگئی ہیں۔مرکزی بینک کے مطابق ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت 14 لاکھ 14 ہزار 300 ریال مقرر کی گئی، جو 23 جولائی کو 14 لاکھ 4 ہزار 259 ریال تھی۔اسی طرح 100 پاکستانی روپے کی سرکاری قدر بڑھ کر 5 لاکھ 9 ہزار 182 ریال ہو گئی، جبکہ دو روز قبل یہ 5 لاکھ 5 ہزار 454 ریال تھی۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 44 غیر ملکی کرنسیاں ایرانی ریال کے مقابلے میں مضبوط ہوئیں جبکہ صرف دو کرنسیوں کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔یورو کی سرکاری قیمت بھی بڑھ کر 16 لاکھ 10 ہزار 84 ریال تک پہنچ گئی، جو اس سے قبل 16 لاکھ 2 ہزار 711 ریال تھی۔ایران کے سانا کرنسی ایکسچینج سسٹم میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 15 لاکھ 14 ہزار 675 ریال جبکہ ایک یورو کی قیمت 17 لاکھ 24 ہزار 354 ریال ریکارڈ کی گئی ہے۔دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 19 لاکھ 20 ہزار سے 19 لاکھ 50 ہزار ریال کے درمیان ٹریڈ ہوتا رہا جو سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ ہے۔اس وقت پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں بھی ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، اس وقت ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 4 ہزار 500 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ جون میں یہی رقم 8 ہزار سے 9 ہزار روپے کے درمیان تھی۔مرکزی بینک کی تازہ شرح کے مطابق 100 پاکستانی روپے کے برابر 5 لاکھ 9 ہزار 182 ایرانی ریال ہیں، یعنی ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 5 ہزار 92 ایرانی ریال کے برابر بنتا ہے، جبکہ ایک ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 0.000196 پاکستانی روپے ہے۔ماہرین کے مطابق ایرانی ریال پر دباؤ برقرار ہے اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی اس کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔تاہم پاکستان میں بعض سرمایہ کار اور کرنسی ڈیلرز اب بھی ایرانی ریال میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوئی اور سفارتی پیش رفت ہوئی تو عین ممکن ہے کہ ایرانی کرنسی دوبارہ مضبوط ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایرانی ریال کی قیمت خطے کی سیاسی اور معاشی پیش رفت کے باعث بدستور اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔جنگ کے سائے میں بھی ایرانی ریال کی فروخت جاری، نئے ریٹ سامنے آگئے