نیویارک : امریکا کی دوا ساز کمپنی نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے ماہانہ ایک گولی تیار کی ہے جس کا نام ایماٹراویئر (Alimatravir)ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس نئی دوا کی کم قیمت پر فراہمی کے لیے 129 ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے سات جنرک مینو فیکچررز کے ساتھ رائلٹی فری معاہدے کیے ہیں۔امریکی دوا ساز کمپنی مرک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی تجرباتی ایچ آئی وی سے بچاؤ کی دوا الیماٹراویر کی کم قیمت جنیرک گولیاں تیار کرنے اور فروخت کرنے کے لیے 7 دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ رضاکارانہ لائسنسنگ معاہدے کرلیے ہیں۔کمپنی کے مطابق ان معاہدوں کے تحت 129 کم آمدنی اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس دوا کے سستے متبادل فراہم کیے جائیں گے، جہاں ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آتی ہے۔مرک ترجمان نے بتایا ہے کہ الیماٹراویر اس وقت تیسرے اور آخری مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز میں ہے، اگر یہ آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ دوا صرف ایک گولی کے ذریعے ایک ماہ تک ایچ آئی وی-ون سے تحفظ فراہم کر سکے گی، اور دوا کھانے کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر اپنا اثر شروع کر دے گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹرائلز مکمل ہونے سے پہلے ہی دوا کی تیاری کی صلاحیت بڑھانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ منظوری ملنے کے بعد دوا جلد از جلد ضرورت مند ممالک تک پہنچائی جا سکے۔معاہدے کے تحت افریقہ کے تین دوا ساز ادارے Aspen Pharmacare، Quality Chemical Industries اور یو سی ایل جبکہ بھارت کی چار بڑی کمپنیوں Aurobindo، Cipla، Emcureاور ویاٹرس کو دوا تیار کرنے کے لائسنس دیے گئے ہیں۔مرک کے مطابق یہ تمام لائسنس رائلٹی فری ہیں، یعنی کمپنی ان اداروں سے کسی قسم کی رائلٹی وصول نہیں کرے گی، یہ معاہدے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں پر لاگو ہوں گے، جس سے ان ممالک میں دوا کی دستیابی آسان اور کم قیمت پر ممکن ہوسکے گی۔مرک کے عالمی ویکسینز اور متعدی امراض کے شعبے کے سربراہ گریگ سزابو نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک کی دوا ساز کمپنیوں کو منصوبے کے آغاز ہی سے لائسنسنگ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ادھر مرک کے عالمی فارماسیوٹیکل پبلک پالیسی کے سربراہ پال شیپر نے بتایا کہ دوا کے کلینیکل ٹرائلز کے نتائج آئندہ سال کی دوسری ششماہی میں متوقع ہیں، تاہم اس دوران جنیرک کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی تیاری شروع کر سکیں گی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال دوا ساز کمپنی گیلیڈ سائنسز (Gilead Sciences) نے بھی اپنی ایچ آئی وی سے بچاؤ کی دوا لیناکاپاویر (Lenacapavir) کے سستے جنیرک ورژن تیار کرنے کے لیے چھ کمپنیوں کو 120 کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے رائلٹی فری لائسنس جاری کیے تھے۔عالمی ادارۂ صحت بھی حکومتوں اور دوا ساز کمپنیوں پر زور دیتا رہا ہے کہ رضاکارانہ لائسنسنگ اور جنیرک ادویات کی تیاری کو فروغ دے کر ایچ آئی وی کی مؤثر اور سستی ادویات تک رسائی کو بہتر بنایا جائے۔یو این ایڈز کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ 9 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے نصف سے زائد کا تعلق صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک سے ہے۔