نئی دہلی(22 جولائی 2026): کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی واڈرا نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی واڈرا نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن کو نہ تو پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر بات کرنے دی جاتی ہے اور نہ ہی جمہوری انداز میں احتجاج کی اجازت ملتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کے روشن مستقبل اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔پی ایم ہاؤس کے قریب طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی ناپسندیدہ ہے۔راہول گاندھی کو گرفتاری کے بعد زمین پر گھسیٹ کر لے جایا گیا، کانگریس نے ویڈیو جاری کر دیانہوں نے کہا جب ہم پارلیمنٹ میں بحث چاہتے ہیں تو موقع نہیں دیا جاتا، جب قائد حزب اختلاف بات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں روکا جاتا ہے اور جب ہم سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں تو اس کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے اور اپوزیشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز بنے۔پرینکا گاندھی نے کانگریس کے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ تباہ حال تعلیمی نظام میں اصلاحات کی جائیں، مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان عہدے سے استعفیٰ دیں، پیپر لیکس پر جوابدہی طے ہو اور پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر تفصیلی بحث کرائی جائے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپوزیشن کی آواز دبانے اور موضوع کو موڑنے میں مصروف ہے۔واضح رہے کہ پیپر لیک، تعلیمی مسائل اور طلبہ پر پولیس کے لاٹھی چارج کے خلاف احتجاج کے دوران مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور راہل گاندھی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے پر دہلی پولیس نے راہل گاندھی، پریانکا گاندھی اور اکھلیش یادو سمیت کئی سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تھا۔اس دوران سونیا گاندھی نے بھی پولیس اسٹیشن پہنچ کر حراست میں لیے گئے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔بعد ازاں پولیس نے راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عزم ظاہر کیا کہ مودی جی! تمام طاقت لگا لیجیے، طلبہ کے انصاف کی یہ لڑائی اب نہ رکے گی اور نہ جھکے گی۔