���پونے : بھارت کے بدنام زمانہ مقدمے کیتن اگروال قتل کیس کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، ملزمان نے واردات کی منصوبہ بندی بہت سوچ سمجھ کر کی۔متعلقہ پولیس کے مطابق مقتول کی منگیتر سیا گوئل اور اس کے مبینہ عاشق چیتن بابلال چودھری نے قتل سے قبل کئی مقامات کا جائزہ لیا تھا تاکہ واردات کو حادثہ ظاہر کیا جاسکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے لوناولا کے ٹائیگر پوائنٹ، ویساپور فورٹ اور دیگر مقامات کی تصاویر ایک دوسرے کو بھیج کر مختلف جگہوں کا جائزہ لیا، جس کے بعد آخرکار لوہ گڑھ فورٹ کو قتل کے لیے موزوں مقام قرار دیا گیا کیونکہ وہاں موت کو حادثہ ثابت کرنا نسبتاً آسان تھا اور شواہد بھی کم رہنے کا امکان تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کےمطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابتدا میں ملزمان نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ کیتن اگروال کو ایک جعلی حادثے میں صرف زخمی کیا جائے تاکہ بالی کے طے شدہ سفر کو مؤخر کیا جا سکے، تاہم بعد ازاں انہوں نے یہ منصوبہ ترک کر دیا۔پولیس کے مطابق ملزمان کو خدشہ تھا کہ اگر کیتن زندہ بچ گیا تو وہ ان کے منصوبے سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے انٹرنیٹ پر مختلف طریقوں سے قتل کے بارے میں معلومات حاصل کیں، جرائم پر مبنی فلمیں دیکھیں اور کئی طریقوں پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مقتول کو پہاڑی سے دھکا دینا ایسا طریقہ ہوگا جس سے واقعہ حادثہ معلوم ہوگا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سیا گوئل قتل سے چند روز قبل کیتن اگروال کے ساتھ لوہ گڑھ فورٹ گئی تھی تاکہ مقام کا جائزہ لے سکے۔پولیس کے مطابق 14 جون کو اس نے قتل کی پہلی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ اس کے بعد چیتن چودھری بھی منصوبے میں شامل ہوا اور 18 جون کو دونوں نے مبینہ طور پر کیتن اگروال کو لوہ گڑھ فورٹ کی گہری کھائی میں دھکا دے دیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔پولیس نے اب تک کی تحقیقات میں قتل کے لیے کسی کرائے کے قاتل (کانٹریکٹ کلنگ) کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان کی نظر میں کیتن اگروال ان کے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ تھا، جسے راستے سے ہٹانے کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا۔سیا گوئل اور چیتن بابلال چودھری اس وقت یرواڈا سینٹرل جیل میں عدالتی تحویل میں ہیں، جبکہ پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں سے مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔