نئی دہلی: مرکزی حکومت میں وزیر مملکت رونیت سنگھ بٹّو نے مرکزی وزارتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے مشورے پر ان کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کر لیا۔ رونیت سنگھ بٹّو مرکزی وزارتِ ریل اور وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز میں وزیر مملکت کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔استعفیٰ منظور ہونے کے بعد رونیت سنگھ بٹّو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا، جس کے لیے وہ وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کے استعفیٰ کی بنیادی وجہ ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت کا اختتام ہے۔ حال ہی میں مختلف ریاستوں میں راجیہ سبھا انتخابات منعقد ہوئے تھے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں کسی بھی ریاست سے امیدوار نامزد نہیں کیا۔ آئینی تقاضوں کے مطابق کسی شخص کو وزیر رہنے کے لیے پارلیمنٹ کا رکن ہونا ضروری ہے، اور مقررہ مدت میں رکنیت برقرار نہ رہنے کی صورت میں وزارت چھوڑنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے رونیت سنگھ بٹّو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مستقبل میں انہیں پنجاب کی سیاست میں اہم ذمہ داری دے سکتی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی انہیں آئندہ پنجاب اسمبلی انتخابات میں امیدوار بنا سکتی ہے تاکہ ریاست میں اپنی سیاسی موجودگی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔رونیت سنگھ بٹّو سال 2024 سے مرکزی وزارتی کونسل کا حصہ تھے۔ وہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بے انت سنگھ کے پوتے ہیں اور طویل عرصے تک کانگریس سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد بی جے پی نے انہیں لدھیانہ لوک سبھا حلقہ سے اپنا امیدوار بنایا تھا۔تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہیں کانگریس کے امیدوار اور پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ کے ہاتھوں 20 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہیں مرکزی کابینہ میں شامل کیا گیا اور بعد ازاں راجستھان سے راجیہ سبھا کی اس نشست کے لیے نامزد کیا گیا جو کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ تاہم یہ نامزدگی صرف باقی ماندہ مدت کے لیے تھی، جو اب مکمل ہو چکی ہے۔رونیت سنگھ بٹّو اس سے قبل ایک مرتبہ شری آنند پور صاحب اور دو مرتبہ لدھیانہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے 2017 میں پنجاب اسمبلی انتخابات میں جلال آباد اسمبلی حلقہ سے بھی قسمت آزمائی کی تھی، لیکن کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔