تہران : امریکی فوج نے لڑائی کے دوبارہ آغاز کے بعد پہلی بار بی ون بمبار نے پاسداران انقلاب کے اہداف کونشانہ بنایا، یہ طیارہ 2000 پاؤنڈ وزنی 24 بم یا درجنوں میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے اور لڑائی کے دوبارہ آغاز کے بعد امریکی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی تباہ کن "بی ون بمبار طیارے” کا استعمال کیا شروع کردیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی فوج نے گزشتہ روز پاسدارانِ انقلاب کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے اس بھاری بمبار طیارے کے ذریعے مشن سرانجام دیا۔لڑائی کے حالیہ مرحلے میں یہ پہلا موقع ہے جب امریکا نے اس قدر جارحانہ اور بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طیارے کو میدان میں اتارا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘بی ون لانسر’ امریکی فضائیہ کا سب سے خطرناک روایتی ہتھیار لے جانے والا طیارہ ہے، یہ طیارہ دو ہزار (2,000) پاؤنڈ وزنی 24 بم یا درجنوں کروز میزائل بیک وقت لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بی ون بمبار کسی بھی قسم کے بمبار طیارے کے مقابلے میں سب سےزیادہ وزنی بم لےجانےکی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ زمین سے کم بلندی پر بھی آواز کی رفتار سے تیز پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کی طرف واپسی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر اگلا بڑا حملہ آئندہ چند دنوں کے اندر متوقع ہے، جس کے لئے امریکی اسپیشل فورسز اور جدید لڑاکا طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں موجود تمام اسٹریٹجک بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی وقت بڑے مشن کا آغاز کیا جا سکے۔