واشنگٹن (23 جولائی 2026): امریکی ایوان نمائندگان نے 1.15 ٹریلین ڈالر مالیت کا دفاعی بجٹ منظور کر لیا۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی پالیسی بل منظور کر لیا ہے، جس سے ایران جنگ کے لیے مزید اربوں ڈالر فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی۔منظور کیے گئے بجٹ میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق شق بھی شامل ہے۔دفاعی پالیسی بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوا۔ 6 ڈیموکریٹ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 7 ریپبلکن ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کی مخالفت کو مسترد کر دیا، جب کہ ڈیموکریٹس کا مؤقف تھا کہ کانگریس، ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی طاقت کے وسیع استعمال پر مؤثر قدغن لگانے میں ناکام ہو رہی ہے۔دفاعی پالیسی بل وہ معاملہ ہے جس پر ہمیشہ دو جماعتی اتفاق رائے پایا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار کے نتائج بتا رہے ہیں کہ یہ اتفاق رائے اب ختم ہونے جا رہا ہے، اس لیے بڑی تعداد میں اس کی مخالفت میں ووٹ آئے۔ایران پر مسلسل بارہویں رات فضائی حملے، پاسداران کی کویت میں جوابی کارروائیبجٹ قرارداد کے تحت پینٹاگون اور انٹیلی جنس اداروں کے لیے مزید 73 ارب ڈالر مختص کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی، جس کا بڑا حصہ ایران جنگ کے اخراجات پورے کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ یہ قرارداد 214 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوئی، جب کہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے اس کی حمایت نہیں کی۔تاہم، ان دونوں اقدامات کو قانون بننے کے لیے اب بھی ایک مشکل مرحلے سے گزرنا ہوگا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کانگریس نے آج تک کبھی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) منظور کرنے میں ناکامی کا سامنا نہیں کیا، تاہم سینیٹ میں اس دفاعی پالیسی بل کی پیش رفت رک گئی ہے، کیوں کہ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس میں ایران میں ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے کوئی مؤثر شق موجود نہیں ہے۔اگر ایسا معاہدہ نہ ہو سکا جو سینیٹ میں مطلوبہ 60 ووٹ حاصل کر سکے، تو ریپبلکن قیادت ممکن ہے کہ سینیٹ میں علیحدہ ووٹنگ کرانے کی بہ جائے این ڈی اے اے کے حتمی مسودے پر مذاکرات شروع کر دے تاکہ موسمِ خزاں کے آخر میں اسے منظور کرایا جا سکے۔ قانون سازی وائٹ ہاؤس بھیجے جانے سے پہلے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سے منظور شدہ بلوں کے درمیان موجود اختلافات دور کرنا ضروری ہوگا۔ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن ارکان نے بجٹ ریکنسیلی ایشن کے خصوصی پارلیمانی طریقۂ کار کا سہارا لیا ہے، جس کے تحت وہ ڈیموکریٹس کی حمایت کے بغیر بجٹ بل منظور کرا سکتے ہیں تاکہ ایران جنگ کے بیشتر اخراجات پورے کیے جا سکیں۔