پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں جمعرات کو این ڈی اے اور انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ آمنے سامنے آ گئے۔ دونوں نے مکر دوار پر الگ الگ مسائل کو لے کر ایک ساتھ احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور نیٹ پیپر لیک تنازعہ کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث سے اپوزیشن کے انکار اور مبینہ طور پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔An Education Minister who has failed millions of students cannot continue in office.The Opposition stands united in demanding the removal of Dharmendra Pradhan and accountability from the Modi government for its repeated failures. New Delhi pic.twitter.com/ATyC1mDsqt— Congress (@INCIndia) July 23, 2026راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ آج ہزاروں نوجوان سڑکوں پر ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ کئی نوجوان اسپتال میں داخل ہیں، ان کے والدین پریشان ہیں۔ اس لیے جب تک استعفیٰ نہیں ہوگا، بحث ممکن نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی کے آج کے بیان پر کھڑگے نے کہا کہ ’’آج وزیر اعظم مودی کا جو بیان آیا ہے وہ اشتعال انگیز ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ ہم ایوان میں بحث کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت ایوان میں بحث سے بھاگ رہی ہے۔‘‘धमेंद्र प्रधान को इस्तीफा देना होगा। आज हजारों युवा सड़कों पर हैं, उन पर लाठीचार्ज किया गया। कई युवा हॉस्पिटल में भर्ती हैं, उनके माता-पिता परेशान हैं।इसलिए जब तक इस्तीफा नहीं होगा, चर्चा संभव नहीं है।: कांग्रेस अध्यक्ष और राज्यसभा में नेता प्रतिपक्ष श्री @kharge pic.twitter.com/zKbKtI5rfD— Congress (@INCIndia) July 23, 2026وزیر اعظم مودی کے بیان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج ٹویٹ میں جو لکھا ہے، وہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے والد سے کہے کہ وہ ڈیزائنر بننا چاہتا ہے، لیکن والد کہے کہ فکر مت کرو، میں نے سیٹنگ کر کے تمہارا ایڈمیشن انجینئرنگ کالج میں کرا دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی سے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور انہیں پیٹنے والوں کے خلاف ایکشن ہو۔‘‘नरेंद्र मोदी ने आज ट्वीट में जो लिखा है, वो कुछ ऐसा है 'जैसे कोई बच्चा अपने पिता से कहे कि वह डिजाइनर बनना चाहता है, लेकिन पिता कहे कि 'फिक्र मत करो, मैंने सेटिंग करके तुम्हारा एडमिशन इंजीनियरिंग कॉलेज में करा दिया है।' PM मोदी से स्टूडेंट्स की मांग है कि धर्मेंद्र प्रधान… pic.twitter.com/EYhv7UU2U8— Congress (@INCIndia) July 23, 2026اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’آج طلبہ کا سسٹم سے بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ اگر آپ سسٹم کے دائرے میں رہ کر طلبہ کے مسئلے کا حل نکالیں گے تو طلبہ نہیں مانیں گے۔ حل تب ہی نکل سکتا ہے، جب حکومت طلبہ کا مطالبہ مانے، لیکن حکومت سن ہی نہیں رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی ٹویٹ کرتے ہیں کہ انہیں طلبہ پر بھروسہ ہے، لیکن کل رات پولیس انہیں پیٹ رہی تھی۔ طلبہ پر آنسو گیس کے گولے کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟ اگر حکومت کو اسٹوڈنٹس کی فکر ہے، تو ان سے بات کرے۔‘‘These are false claims. Nobody believes his (PM Modi) words anymore. He has already lost credibility. The Modi government has taken no action. First, he must remove Dharmendra Pradhan from the Education Ministry. Only then should he speak to students.: Congress General… pic.twitter.com/EslKWqCmVD— Congress (@INCIndia) July 23, 2026کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم مودی کے بیان پر کہا کہ ’’یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔ اب وزیر اعظم مودی کی باتوں پر کسی کو یقین نہیں رہا۔ وہ اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور مودی حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ پہلے دھرمیندر پردھان کو وزارت تعلیم سے ہٹایا جائے، اس کے بعد ہی وزیر اعظم کو طلبہ سے بات کرنی چاہیے۔‘‘