سان فرانسسکو : دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے اپنی آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (اے جی آئی) ٹیم میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعدد عہدے ختم کر دیے ہیں۔یہ اقدام کمپنی کی جانب سے رواں سال کے دوران مختلف شعبوں میں کی جانے والی افرادی قوت میں کمی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایمازون ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی کئی برسوں سے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔کمپنی کے مطابق اے آئی اب بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے، اس نئی حکمت عملی کے تحت کچھ مشکل فیصلے کرنا پڑے، تاہم بعض منصوبوں کی تنظیم نو کے باعث چند عہدے ختم کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اے جی آئی ڈیٹا سروسز اور دیگر متعلقہ ٹیموں کے ملازمین بھی ان چھانٹیوں سے متاثر ہوئے ہیں، تاہم متاثرہ ملازمین کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی۔آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (اے جی آئی) سے مراد ایسا جدید مصنوعی ذہانت کا نظام ہے جو انسانی ذہانت سے بھی آگے بڑھ کر خود سیکھنے، ترقی کرنے اور آزادانہ طور پر پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، دنیا کی کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ایمازون کے اے جی آئی شعبے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران انتظامی سطح پر بھی اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ اس شعبے کی نگرانی کرنے والے سینئر ایگزیکٹو روہت پرساد گزشتہ سال کے اختتام پر کمپنی چھوڑ گئے تھے، جبکہ اے جی آئی لیب کے سربراہ ڈیوڈ لوان نے رواں سال فروری میں استعفیٰ دے دیا تھا۔بعد ازاں دسمبر میں اے جی آئی سے متعلق تمام سرگرمیوں کو سینئر نائب صدر پیٹر ڈی سینٹس کی سربراہی میں یکجا کر دیا گیا، جس کے تحت سلیکون ڈویلپمنٹ اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ایمازون نے رواں سال جنوری میں بھی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کے تحت 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد مختلف شعبوں میں مرحلہ وار افرادی قوت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ایمازون کا ایک بار پھر ہزاروں ملازمین کو برطرف کرنے کا منصوبہ