مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا ہے۔ دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفیٰ کی وجہ بتاتے ہوئے اس کا اعلان خود سوشل میڈیا پر کیا۔ یہ قدم دہلی میں طلباء کے زبردست احتجاج اور بڑے پیمانے پر دباؤ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔لیکن اس بڑی سیاسی پیش رفت کے درمیان، ان خاندانوں کا درد جنہوں نے پیپر لیک ہونے سے اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا اور دوبارہ امتحانات کا دباؤ کم نہیں ہو پایا ۔ ایسی ہی ایک دل دہلا دینے والی کہانی لکھنؤ کی 17 سالہ شیوانی یادو کی ہے۔ 12ویں جماعت میں ICSE بورڈ کے امتحانات میں 96.5 فیصد نمبر حاصل کرنے والی ایک ذہین طالبہ شیوانی نے بچپن سے ہی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا تھا۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اس کے خاندان کے پاس اب بھی ڈاکٹر کی کٹ ہے جو اسے پہلی جماعت میں لی تھی، لیکن نیٹ پیپر لیک ہونے اور امتحان کی منسوخی کے جھٹکے نے اس کی جان لے لی۔ دوبارہ نیٹ امتحان سے صرف چار دن پہلے، شیوانی نے موت کو گلے لگا لیا۔شیوانی کے والد، رنجیت کمار، جو ریلوے ملازم ہیں، نے’ آج تک‘ سے بات چیت میں اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "لڑکی نیٹ کے امتحان کی منسوخی کی وجہ سے بہت دباؤ میں تھی۔ ہم اسے 10-12 دن کے لیے بہار میں اپنے گاؤں لے گئے تاکہ اس کا دھیان بٹا سکیں۔ ہم 14 تاریخ کو لکھنؤ واپس آئے۔ جب میں کام پر گیا تو شیوانی نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔" ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گی۔‘‘شیوانی کے والد نے وزیر تعلیم کے استعفے پر انتہائی جذباتی اور سخت موقف اپناتے ہوئے کہا، "استعفیٰ، استعفیٰ، ہمیں اس سے کیا لینا دینا؟ استعفوں سے میری بیٹی واپس نہیں آئے گی! انتظامیہ کو زیادہ چوکس رہنا چاہیے تھا تاکہ یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔"رنجیت کمار نے مزید کہا، "تمام بچوں کو خراج تحسین جنہوں نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔ لیکن بچوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے والدین کی پوری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ بچے تو چلے جاتے ہیں، لیکن والدین ان کو یاد کرتے ہوئے، بلک بلک کر روتے ہوئے پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔"