ایران نے حزب اللہ کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای

Wait 5 sec.

تہران (27 جولائی 2026): ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کے روز لبنان کی جماعت حزب اللہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے ’’مکمل اور غیر مشروط طور پر‘‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔مجتبیٰ خامنہ کا یہ بیان امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور تنظیم کے ارکان کی جانب سے بھیجے گئے وفاداری کے عہد پر مبنی خط کے جواب میں سامنے آیا۔سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شرط ہی لبنانی سرزمین کی سالمیت اور صہیونی جارحیت کا خاتمہ ہے، امریکا کے ساتھ مسلط جنگ کے خاتمے کے کسی بھی سمجھوتے کے لیے صہیونی جارحیت کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔Iran’s Supreme Leader Mojtaba Khamenei said the Islamic Republic would continue supporting Hezbollah as a strategic policy and that “no path remains except jihad and resistance,” in a letter to the group’s secretary-general published on his Telegram channel on Sunday.Khamenei… pic.twitter.com/Zzvc366v9p— Iran International English (@IranIntl_En) July 26, 2026 مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں میں ’’ایک ناقابلِ تسخیر چٹان اور صفِ اوّل کی قوت‘‘ ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کے لیے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے۔ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا، امریکا منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا، اسماعیل بقائیایرانی رہنما نے کہا کہ دنیا کی اقوام امریکی حکومت اور اسرائیل کے ظلم و جبر سے تنگ آ چکی ہیں، جو انسانی جانوں اور نسلوں کے تباہ کنندہ ہیں، انھوں نے کہا جہاد اور مزاحمت کے سوا اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 4,330 افراد ہلاک اور 12,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ 26 جون کو لبنان اور اسرائیل نے امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔تاہم، اس معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں ہے۔ اس کی بہ جائے انخلا کی تکمیل کو اس شرط سے مشروط کیا گیا ہے کہ لبنانی فوج اسرائیلی افواج کے خالی کیے گئے علاقوں کی مکمل سیکیورٹی ذمہ داری سنبھالے اور حزب اللہ سمیت تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قابض ہے، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں، جب کہ بعض دیگر پر اس نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔