مہاراشٹر کے اہلیا نگر ضلع کے کرجت تعلقہ کے جلال پور گاؤں میں ایک 18 سالہ طالبہ نے مبینہ طور پر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ متوفی کی شناخت انکیتا سانگلے کے طور پر کی گئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق نیٹ امتحان میں امید سے کم نمبر آنے کی وجہ سے انکیتا ذہنی طور پر پریشان تھی۔ اس معاملے کے بعد پورے علاقے میں رنج و غم کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ پولیس نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کرکے جانچ شروع کر دی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق انکیتا میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، اور طویل عرصے سے نیٹ امتحان کی تیاری بھی کر رہی تھی۔ اس نے حالیہ نتائج میں 166 نمبر حاصل کیے تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انکیتا کو اس سے بہتر نمبرات آنے کی امید تھی۔ لیکن نمبر کم آنے کی وجہ سے انکیتا پریشان رہنے لگی تھی اور اسی ذہنی تناؤ کے سبب اس نے یہ قدم اٹھایا۔اہل خانہ نے بتایا کہ انکیتا کی پڑھائی کے لیے گھر کے اندر الگ کمرہ بنایا گیا تھا۔ اتوار کی شام وہ اپنے کمرے میں پڑھائی کی غرض سے گئی تھی۔ کافی دیر تک جب کمرے سے کوئی آواز نہیں آئی تو والدین نے دروازہ کھولا۔ اندر کا منظر دیکھ کر سب حیران رہ گئے، کیوں کہ انکیتا پھندے سے لٹکی ہوئی تھی۔ انکیتا کو فوری نیچے اتارا گیا، لیکن تب تک موت ہوچکی تھی۔ اس معاملے کی اطلاع فوراً پولیس کو دی گئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انکیتا نے ایک سوسائیڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے۔ مراٹھی میں لکھے گئے سوسائیڈ نوٹ میں لکھا ہے کہ ’’مجھے اتنا پیار دیا، لیکن میں آپ کی ایک خواہش بھی پوری نہیں کر سکی۔ ممی تم نے تو ہر مصیبت میں دوست بن کر میرا ساتھ دیا۔ دادا (بھائی) تم نے بھی میرا بہت ساتھ دیا۔ میری خودکشی کے لیے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپ نے مجھے جو خوشی دی ہے، اسے میں کبھی بھی بھول نہیں سکتی۔ دادا تم ممی پاپا کا اچھے سے خیال رکھنا۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دینا۔ تم بھی خوش رہو۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دینا۔ میں آپ کو کوئی خوشی نہیں دے سکی۔ پہلے بھی میں نیٹ کی پڑھائی کر رہی تھی، تب بھی آپ سب نے بہت قربانی دی اور میں نے کیا کیا، آپ کی خواہش پوری نہیں کر سکی۔ اب کوئی پریشانی مت لینا۔ خوش رہو۔ آپ کی انکیتا۔‘‘فی الحال پولیس نے سوسائیڈ نوٹ کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جانچ ایجنسیاں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ انا سانگلے کی اطلاع پر مقامی پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال معاملے کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔ واقعہ کے بعد این سی پی (شرد پوار دھڑے) کے رکن پارلیمنٹ نیلیش لنکے نے انکیتا کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے اس واقعے کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اگر نیٹ امتحان سے متعلق تنازعہ اور مبینہ پیپر لیک کی وقت پر غیر جانبداری سے تحقیقات کی جاتی تو شاید اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جانچ میں لاپروائی یا پیپر لیک کا پہلو سامنے آتا ہے تو ذمہ دار لوگوں کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا معاملہ درج کیا جائے گا۔