بحیرہ اسود میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر حکومت نے ہندوستانی بحری جہازوں کے ملاحوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا

Wait 5 sec.

حال ہی میں بحیرہ اسود (بلیک سی) سے گزرنے والے ایک جہاز پر ہونے والے حملے میں ہندوستان کے 5 ملاح ہلاک ہو گئے۔ ہندستانی حکومت نے اس سلسلے میں روس کے سامنے اپنا احتجاج بھی درج کرایا ہے۔ چونکہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، اس لیے ہندوستانی حکومت نے اتوار کے روز بحیرہ اسود اور اس سے منسلک سمندری علاقوں میں کام کرنے والے یا وہاں ملازمت کرنے کا ارادہ رکھنے والے ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک سیکورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ روس-یوکرین تنازعہ کی وجہ سے اس خطے میں سیکورٹی کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم بنی ہوئی ہے اور یہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق اپریل 2026 سے اس خطے میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں اب تک 5 ہندوستانی شہریوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ہندوستانی ملاحوں اور سمندری شعبے میں کام کرنے والے افراد سے خاص طور پر محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ جو ہندوستانی شہری بحیرہ اسود کے خطے میں کام کرنے والے یا وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ نوکری کی پیشکش قبول کرنے سے پہلے سیکورٹی کی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ اگر وہ ایسے جہازوں پر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو انہیں تمام ضروری حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔وزارت خارجہ نے مشورہ دیا ہے کہ ملازمت قبول کرنے سے پہلے آجر، بھرتی کرنے والی ایجنسی اور جہاز کے آپریٹر سے جہاز کے مجوزہ راستے، جن بندرگاہوں پر جہاز جائے گا، سیکورٹی کے انتظامات، انشورنس کوریج اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائیں کہ روزگار کا معاہدہ بین الاقوامی سمندری معیارات کے مطابق ہو اور اس میں طبی سہولیات، ہنگامی انخلاء، وطن واپسی اور حادثے کی صورت میں معاوضے جیسے کافی انتظامات شامل ہوں۔حکومت نے ہندستانی شہریوں کو اپنے اہل خانہ کو سفر اور جائے ملازمت کی مکمل معلومات دینے اور ان کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میرین ایڈمنسٹریشن (ڈی جی ایم اے)، ہندوستانی حکومت اور دیگر متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ سیکورٹی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ خاص طور پر 23 جولائی 2026 کو بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہ کے تحت ڈی جی ایم اے کی جانب سے جاری حفاظتی ایڈوائزری پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہندوستانی شہری متعلقہ ہندوستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے روس میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کا ایمرجنسی نمبر 3414 965277 7+ اور یوکرین میں قائم ہندوستانی سفارت خانے کا ہنگامی نمبر 9958 093355 38+ جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بحیرہ اسود کے خطے میں کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے اور سیکورٹی سے متعلق تمام سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔