نئی دہلی (26 جولائی 2026): ایک شکایت نے کیسے بھارت کے سب سے بڑے امتحانی اسکینڈل کو بے نقاب کیا، اور ایک پورا نیٹ ورک سامنے آیا، اس کی مکمل کہانی اب سامنے آ گئی ہے۔مودی کے بھارت میں نوجوانوں کا مستقبل اُس وقت بیچا گیا، جب بی جے پی کے وزیر تعلیم کی آشیر باد میں مقابلے کے امتحانی پرچے کی پورے بھارت میں نیلامی کروائی گئی، لیکن دن رات محنت کرنے والوں نے سچ سامنے آنے پر دلی کو ہلا کر رکھ دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جے پور کے 2 ماسٹر مائنڈز نے ناسک میں پرنٹنگ پریس سے پیپر لیک کروایا، جسے ہریانہ کے شہر گروگرام میں ایک ڈاکٹر تک پہنچایا گیا، یہ ڈاکٹر نیٹ ورک میں مڈل مین کا کردار ادا کررہا تھا، یہاں سے امتحانی پرچہ راجستھان کے شہر سکر میں ایک کنسلٹنسی کمپنی کے حوالے کر دیا گیا۔اب یہاں سے ’’کے اے فور ہنڈرڈ‘‘ حرکت میں آیا، کے اے فور ہنڈرڈ اس مافیا کا واٹس ایپ نمبر ہے، جس نے چوری شدہ امتحانی پرچوں کو پورے بھارت میں پھیلا دیا۔کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم کرنے کا اعلانبھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کے اے فور ہنڈرڈ (KA400) پر لیک پرچے کی قیمت 30 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک وصول کی گئی۔ ناگور کے ایک شخص نے تو 28 لاکھ روپے قیمت ادا کر دی۔راجستھان سے لیک پرچہ 30ہزار روپے میں کیرالا پہنچا، اور وہاں سے اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں اس پیپر کی فوٹو کاپی فروخت ہوئی، 2 مئی کو جب نیٹ پیپر سامنے آیا تو اس میں بائیلوجی کے 90 فی صد، کیمسٹری کے 45 فی صد سوال وہی تھے، جو لیکڈ پیپر میں موجود تھے، اور یہیں سے اصل کہانی شروع ہوئی۔کیرالا کے امیدوار نے لیک پیپر کی شکایت پولیس میں کروائی تو اسے بھگا دیا گیا۔ اس نے نینشل ٹیسٹنگ ایجنسی کو ای میل کیا، اور شکایت درج کروائی۔ این ٹی اے نے کیس آئی بی کے حوالے کر دیا، اور آئی بی نے اسپیشل آپریشنز گروپ راجستھان کو تفصیلات فراہم کر دیں، اس کے بعد بھارت میں بھونچال آ گیا، سارا کچہ چٹھہ دنیا کے سامنے آ گیا۔بھارت میں انجنیئرنگ، میڈیکل، ایوی ایشن اور دیگر اہم شعبوں کے لیے نیٹ ٹیسٹ میں کامیابی ضروری ہے، 22 لاکھ امیدوار مقابلے کے اس امتحان میں بیٹھتے ہیں لیکن مودی سرکار کی کرپشن نے بھارت کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا، اتنا ہی نہیں مودی نواز بھارتی سپریم کورٹ نے بھی انصاف نہ دیا، جس کے بعد ملک گیر تحریک کا جنم ہوا۔