سعودی حملوں کے بعد ایران کا یمن کے ساتھ تنازع بات چیت سے حل کرنے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

تہران (26 جولائی 2026): ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان حالیہ تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایران کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب کے خلاف جارحیت پر عرب اتحاد نے الحدیدہ میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا یمن کے بحران کا منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ طے شدہ روڈ میپ پر مکمل عمل درآمد ہی یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امریکا کی پالیسیوں نے یمن کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں حوثیوں نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب نے صنعا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تاکہ ایران سے آنے والے ایک طیارے کو اترنے سے روکا جا سکے۔یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیادوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے کہا کہ رن وے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایرانی طیارہ، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ حوثیوں سے متعلق تھا، نہ اتر سکے۔ اس واقعے کے بعد حوثیوں نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کی ’’ڈی ایسکلیشن‘‘ ختم ہو گئی ہے۔صنعا ایئرپورٹ کے واقعے کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ سعودی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ بعد ازاں حوثیوں نے ابہا، جازان اور ینبع کے علاقوں، جن میں آرامکو کی تنصیبات بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کئی برسوں بعد دوبارہ فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ ان حملوں میں حدیدہ، مأرب، الجوف اور کمران جزیرے سمیت متعدد حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ حملے صرف فوجی اہداف پر کیے گئے، جب کہ حوثیوں نے الزام لگایا کہ شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔20 جولائی کو حوثیوں نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہاز ان کے حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔22 جولائی کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں انسیلیا اور لیلا کو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، سعودی حکام نے انسیلیا جہاز پر حملے کی تصدیق کی۔