خلیجی ملک میں پینے کے پانی کی حد مقرر کر دی گئی

Wait 5 sec.

کویت سٹی (26 جولائی 2026): کویت میں حکومت نے پینے کے پانی کی حد مقرر کر دی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق کویت کی وزارتِ سماجی امور نے کہا ہے کہ مرکزی مارکیٹوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کی شاخوں سے بوتل بند پانی کی خریداری پر عائد پابندیاں برقرار رہیں گی، اور ہر خریدار ایک خریداری رسید پر زیادہ سے زیادہ 5 کارٹن پانی ہی خرید سکے گا۔وزارت نے متنبہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بوتل بند پانی کی فروخت سے متعلق ضوابط میں نرمی نہیں برتی جائے گی، اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خوف کے باعث ضرورت سے زیادہ خریداری اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کو روکنا ہے، کیوں کہ اس سے رسد پر بلاوجہ دباؤ پڑتا ہے اور فروخت کے مراکز پر غیر معمولی ہجوم پیدا ہوتا ہے۔’کویت کے بجلی گھر اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا‘وزارت نے واضح کیا کہ نہ تو بوتل بند پانی کی پیداوار کم ہوئی ہے نہ اس کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کا سامنا ہے، پانی تیار کرنے والی فیکٹریاں بدستور بڑی مقدار میں پیداوار کر رہی ہیں، جب کہ بوتل بند پانی کی سپلائی بھی باقاعدگی سے مارکیٹوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق یہ پابندی احتیاطی نوعیت کی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ خریداری کا رجحان منظم رہے، تمام صارفین پانی تک مساوی طور پر رسائی کر سکیں، اور بوتل بند پانی کی دستیابی کا تسلسل برقرار رہے۔وزارت نے خبردار کیا کہ اس احکامات کی کسی بھی خلاف ورزی یا عمل نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔وزارت نے صارفین پر زور دیا کہ وہ صرف اپنی ضرورت کے مطابق پانی خریدیں، ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے بھی اجتناب کریں تاکہ شہریوں اور رہائشیوں میں بلاوجہ تشویش پیدا نہ ہو۔