طلبہ پر پولیس کارروائی اور اپوزیشن کے خلاف سختی پر کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، جمہوریت کے خاتمے کا الزام

Wait 5 sec.

نئی دہلی: امتحانی نظام کے بحران، پیپر لیک کے مسلسل واقعات اور طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ اسی سلسلے میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے اور کانگریس جنرل سکریٹری و رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں جمہوری حقوق کو دبایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز بھی کہا تھا کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ ایک آمرانہ حکومت ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت میں اراکین پارلیمنٹ کے احترام کا فقدان ہے اور جو لوگ ضابطوں کے مطابق احتجاج کرتے ہیں، انہیں بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔کھڑگے نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد بغیر شناختی بیج کے پولیس کے درمیان موجود رہتے ہیں اور بالواسطہ طور پر طلبہ اور کانگریس رہنماؤں کو ڈرانے دھمکانے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت طلبہ کے ساتھ ساتھ کانگریس کے سینئر رہنماؤں کو بھی کچلنے کی کوشش کرے گی تو ملک کے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پھر حالات پر قابو پانا حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔کانگریس صدر نے مزید کہا کہ اس کے بعد حکومت کو افسوس ہوگا کہ اس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد ڈرنے والے نہیں ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دوسری جانب پرینکا گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ کیا ہوا، یہ اہم نہیں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، کیا وہ درست تھا؟ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے جائز مطالبات اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور وہ نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں۔मैंने कल ही कहा है कि यह लोकतांत्रिक सरकार नहीं है। ये तानाशाह सरकार है।मोदी सरकार में सांसदों के प्रति कोई सम्मान नहीं है। वे नियमों के अनुसार विरोध करने वालों को भी परेशान करते हैं। BJP-RSS के लोग बिना बैज के पुलिस के बीच काम करते हैं। ये लोग अप्रत्यक्ष रूप से छात्रों और… pic.twitter.com/A1KazKJ1rW— Congress (@INCIndia) July 22, 2026پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک میں بار بار پیپر لیک کے واقعات پیش آ رہے ہیں، حکومت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ان کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور طلبہ کے ساتھ سڑکوں پر اور اپوزیشن کے ساتھ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ غیر جمہوری طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو اہم مسائل پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور جب اپوزیشن اسپیکر سے بات کرتی ہے تو انہیں حکومت سے مشاورت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان کے بقول ملک میں جمہوری اداروں کی حیثیت کمزور پڑ چکی ہے۔हमारे साथ जो हुआ, वह irrelevant है लेकिन छात्रों के साथ जो हुआ, वह सही है या गलत? छात्रों की जायज मांगें हैं और वे अपना अधिकार मांग रहे हैं। वे सिस्टम में बदलाव चाहते हैं। पेपर लीक बार-बार हो रहा है। सरकार नौकरी भी नहीं दे पा रही है। युवाओं का भविष्य बर्बाद हो रहा है।… pic.twitter.com/g99BRf3pVM— Congress (@INCIndia) July 22, 2026پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس تشدد کے خلاف ہے اور یہ جماعت کے نظریات کے ساتھ ساتھ ملک کی بنیادی اقدار کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ کو بے رحمی سے لاٹھیوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ انہی نوجوانوں نے اس حکومت کو بھاری اکثریت سے ووٹ دیا تھا، لیکن آج وہ خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کانگریس ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔