بیروت (27 جولائی 2026): اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے کو مختلف حصوں میں نئی تقسیم شروع کر دی ہے۔صہیونی فوج نے جنوبی لبنان میں مغربی کنارے طرز کی چیک پوسٹیں اور غزہ طرز جیسی یلو لائن کے نام سے ایک محدود رسائی والا علاقہ بھی بنا دیا ہے۔ان چیک پوسٹوں اور فوجی حدود کے قیام سے اسرائیل جنوبی لبنان کو مرحلہ وار مختلف حصوں میں بانٹ رہا ہے۔الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ لبنانی فوج نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج مسلسل گولہ باری اور علاقے کو صاف کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث طے شدہ معاہدے کے مطابق لبنانی فوج دیہات کا مکمل کنٹرول سنبھالنے سے قاصر ہے۔صدر ٹرمپ کو ایک اور سبکی کا سامنا، جن صحافیوں پر مقدمے کیے ان ہی کو ایوارڈ دینا پڑ گیالبنانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کی کوششیں کر رہی ہے لیکن اسرائیل اس میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔لبنانی فوج نے منگل کے روز 3 پائلٹ زون دیہات میں سے پہلے دیہات میں اپنے دستے تعینات کیے تھے۔ سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کا یہ اقدام گزشتہ ماہ امریکا کی حمایت سے طے پانے والے اس معاہدے کے بعد کیا گیا، جس کے تحت اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا کرنا ہے۔لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ’’اسرائیلی حملوں کا تسلسل فوج کی مکمل تعیناتی میں رکاوٹ بن رہا ہے اور دیہات و قصبوں کے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی بھی روک رہا ہے۔‘‘اسرائیلی انخلا کے پہلے مرحلے کے لیے تین دیہات یا پائلٹ زونز منتخب کیے گئے تھے، جن میں زوطر الغربیہ، فرون اور صریفہ شامل ہیں۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے انخلا کے واضح شیڈول نہ ہونے پر خدشات بدستور برقرار ہیں۔ لبنانی فوج نے بتایا کہ شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے باوجود زوطر الغربیہ کے مغربی حصوں طبنین اور نبطیہ الفوقا میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ جاری رہی۔بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نبطیہ، حدہ، کونین، بنت جبیل، نبی ابل الساقی، خیام، المنصوری، بیت السیاد اور صور کے علاقے مجدل زون میں بلڈوزروں کے ذریعے مسماری، گولہ باری اور مشین گنوں کے ساتھ تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔