بہار بند کے دوران سیوان میں ہوئے پرتشدد مظاہرے کے درمیان اے کے-47 سے فائرنگ کرنے والے پولیس جوان کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ وائرل ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس جوان ابھیشیک پٹیل کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابھیشیک پٹیل اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) میں تعینات تھے۔ پولیس محکمے نے اس معاملے میں محکمہ جاتی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔Siwan, Bihar: SIT team member Abhishek Patel, who fired shots from an AK-47 in Siwan, has been suspended (Visuals from the spot, July 25) pic.twitter.com/1pTl9RyLLe— IANS (@ians_india) July 27, 2026واضح رہے کہ 25 جولائی کو بہار بند کے دوران سیوان میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ احتجاج کے دوران جھڑپ، پتھراؤ اور لاٹھی چارج کی نوبت آ گئی تھی۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں ایک پولیس جوان اے کے 47 سے فائرنگ کرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس محکمہ میں کھلبلی مچ گئی۔ افسران نے معاملے کی جانچ شروع کی اور ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو معطل کر دیا۔ پولیس اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ کن حالات میں جوان نے ہتھیار کا استعمال کیا اور کیا فائرنگ قوانین کے تحت کی گئی تھی یا نہیں۔بہار بند کے دوران ہوئے پرتشدد واقعات کو لے کر پولیس نے ریاست کے کئی اضلاع میں کارروائی تیز کر دی ہے۔ اب تک پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں مجموعی طور پر 21 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ پولیس کے مطابق 450 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے لوگوں پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے، جان لیوا حملہ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سڑک جام کرنے اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پٹنہ میں درج 2 معاملات میں اب تک 139 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 30 طالبات اور تقریباً 45 نابالغ بھی شامل تھے۔ پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد طالبات اور نابالغوں کو چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ سارن میں 4 معاملات میں 58، سیوان میں 3 معاملات میں 25، مظفرپور میں 2 معاملات میں 15، سیتامڑھی میں 4 معاملات میں 13 اور کشن گنج میں ایک معاملہ میں 25 لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ پولیس افسران کے مطابق احتجاج کے دوران پیش آئے واقعات کی تحقیقات ویڈیو فوٹیج، سوشل میڈیا پر وائرل مواد اور موقع پر موجود لوگوں کے بیان کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ تشدد میں شامل کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔