واشنگٹن (27 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب ان کی موجودی میں اُن صحافیوں کو ایوارڈ دیا گیا جن پر ان کی انتظامیہ نے مقدمے کیے۔وائٹ ہاؤس میں، کیتھرین گراہم ایوارڈ کے اعلان کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اُس وقت اچانک مشکل میں پھنس گئے جب اُن ہی صحافیوں کو ایوارڈ کے لیے بلایا گیا جن کے خلاف 10 ارب ڈالر کے ہتکِ عزت کے مقدمے کیے گئے۔سالانہ عشائیے کی تقریب میں وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقاتی ٹیم کو ’’کیتھرین گراہم ایوارڈ برائے جرات اور احتساب‘‘ دیا گیا۔ یہ ایوارڈ ان صحافیوں کو دیا گیا جو جیفری ایپسٹین کے نام ڈونلڈ ٹرمپ کا مبینہ خط منظر عام پر لائے تھے۔ اس خط کے بعد ایپسٹین اسکینڈل نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا، بڑے بڑے نام زد میں آئے۔تقریب کے میزبان وولف بلٹزر نے ایوارڈ پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین اسکینڈل کی اشاعت سے پہلے اخبار کے مالک روپرٹ مرڈوک سے رابطہ کر کے رپورٹ رکوانے کی کوشش کی، مگر اخبار پیچھے نہ ہٹا۔جنتر منتر پر جین زی کے معصومانہ سوالاتبلٹزر نے یہ بھی بتایا کہ مقدمے کے دوران رپورٹر خدیجہ صفدر اور ان کے خاندان کو اپنا گھر چھوڑ کر منتقل ہونا پڑا۔واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کے نام ڈونلڈ ٹرمپ کا مبینہ خط منظر عام پر لانے والے وال اسٹریٹ جرنل کے 8 صحافیوں کو ’’کیتھرین گراہم ایوارڈ فار کریج اینڈ اکاؤنٹیبلٹی‘‘ سے نوازا گیا ہے، اور اس تقریب کے دوران صدر ٹرمپ کبھی کندھے اچکاتے کبھی مسکراتے رہے۔ اور اس وقت اسکینڈل سے ایوارڈ تک کی کہانی دنیا بھر کے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث ہے۔