دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہیں دیا، نوجوانوں نے ان سے چھین لیا: پون کھیڑا

Wait 5 sec.

نئی دہلی: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اسے طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے اور اب حکومت کو طلبہ کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔کانگریس کے میڈیا و تشہیر شعبے کے سربراہ پون کھیڑا نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ ملک کے نوجوانوں نے ان سے استعفیٰ چھین لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ طلبہ کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے اور ابھی انصاف کا عمل مکمل نہیں ہوا۔پون کھیڑا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ملک کے نوجوانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کیا اور پیلٹ گن چلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو بھی اس واقعے پر جواب دینا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔چھتیس گڑھ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیپک بیج نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی اور سیاسی دباؤ کے باعث سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوان اپنے مستقبل، حقوق اور روزگار کے تحفظ کے لیے جنتر منتر پر مسلسل احتجاج کر رہے تھے اور اسی دباؤ نے حکومت کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا۔دیپک بیج نے کہا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج اور طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک تھا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس جدوجہد میں شامل نوجوانوں اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا ہے اور ان کی آواز کو ملک کے مستقبل کی آواز قرار دیا ہے۔دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور ہونا طویل جدوجہد کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کو محض چہروں کی تبدیلی پر اکتفا کرنے کے بجائے طلبہ کے مسائل کے مستقل حل پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات روکنے کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے واقعات سے مایوس ہو کر کئی طلبہ نے اپنی جانیں گنوائیں جبکہ دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔دیویندر یادو نے مزید مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور وزیر اعظم نریندر مودی نوجوانوں سے معافی مانگیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے وزیر تعلیم پرہلاد جوشی طلبہ کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے اقدامات کریں گے جن سے امتحانی نظام میں شفافیت بحال ہو اور نوجوانوں کا اعتماد دوبارہ قائم ہو۔