(26 جولائی 2026): اٹلی نے شینگن، ورک، فیملی ری یونین اور اسٹڈی ویزا کے خواہشمند پاکستانی امیدواروں کیلیے نئی ہدایات جاری کر دیں۔یہ ہدایات اسلام آباد میں قائم اطالوی سفارتخانے نے اپنے آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے جاری کیں، جن کا مقصد ویزا کے حصول کے عمل کو شفاف بنانا اور جعلی ایجنٹوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔بی ایل ایس ویزا ایپلیکیشن سینٹرزاٹلی کیلیے شینگن، فیملی ری یونین اور ورک ویزا کے حصول کیلیے مختصر مدت کی درخواستیں بی ایل ایس ویزا ایپلیکیشن سینٹرز کے توسط سے جمع کروائی جائیں گی، یہ مراکز اسلام آباد، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں موجود ہیں۔اپائنٹمنٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ امیدواروں کو آفیشل ویب سائٹ www.theitalyvisa.com کے ذریعے اپنی اپائنٹمنٹ بک کرنا ہوگی، فیملی ری یونین اور ورک ویزا کیلیے رش زیادہ ہونے کی وجہ سے اس وقت ویٹنگ لسٹ موجود ہے، تاہم سفارتخانے نے یقین دہانی کروائی ہے کہ لسٹ میں شامل ہر فرد کو بالآخر اپائنٹمنٹ مل جائے گی۔یورپی یونین یا اطالوی شہریوں کے اہل خانہ کیلیے طریقہ کاراگر کوئی شخص کسی اطالوی یا یورپی یونین کے شہری کے ساتھ فیملی ری یونین ویزا کے تحت شامل ہونا چاہتا ہے، تو اس کیلیے طریقہ کار مختلف ہے۔ ایسے امیدوار براہ راست اطالوی سفارتخانے سے اپائنٹمنٹ کی درخواست دے سکتے ہیں۔علاوہ ازیں، ایسے امیدواروں کو سفارتخانے کے نام PEC بھیجنی ہوگی، مطلوبہ دستاویزات کی تفصیلات اسلام آباد میں اطالوی سفارتخانے کی آفیشل ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔اسٹڈی ویزا کیلیے ہدایاتاٹلی کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کیلیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے Universitaly پورٹل کے ذریعے اپنی پری انرولمنٹ مکمل کریں، اس کی تصدیق کے بعد BLS کا ادارہ خود طالب علم سے رابطہ کر کے ویزا اپائنٹمنٹ طے کرے گا۔طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عام شینگن یا ورک ویزا کی طرح خود سے اسٹڈی ویزا کی اپائنٹمنٹ بک کرنے کی کوشش نہ کریں۔انتباہاطالوی سفارتخانے نے ویزا اپائنٹمنٹس کے نام پر ہونے والے فراڈ سے سختی سے خبردار کیا ہے کہ سفارتخانے کے علم میں آیا ہے کہ کچھ غیر قانونی ایجنٹ پیسوں کے بدلے اپائنٹمنٹس فروخت کر رہے ہیں۔سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ ویزا اپائنٹمنٹ کبھی بھی خریدی نہیں جانی چاہیے، اگر کوئی شخص یا ایجنسی پیسوں کے عوض اپائنٹمنٹ کی پیشکش کرے، تو اس کی فوری طور پر سفارتخانے میں شکایت کریں، اس غیر قانونی عمل سے نمٹنے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف آفیشل ذرائع پر انحصار کریں۔