نئی دہلی : بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری ملک گیر طلبہ احتجاج کے دوران بھارتی اداکاروں، کرکٹرز اور دیگر معروف شخصیات کی خاموشی پر انہیں شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب لاکھوں نوجوان اپنے مستقبل کے لیے سڑکوں پر موجود تھے تو ملک کی بااثر شخصیات کو بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نام سے ابھرنے والی نوجوانوں کی تحریک کے تحت لاکھوں طلبہ حکومت سے امتحانی نظام میں شفافیت جوابدہی اور متعلقہل وزیر کےئ استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔احتجاج کا آغاز 20 جون کو نئی دہلی میں دھرنے سے ہوا تھا، جہاں شرکا شدید گرمی، مون سون کی بارشوں اور مرطوب موسم کے باوجود مسلسل موجود رہے۔طلبہ کے شدید احتجاج کے دباؤ کے نتیجے میں بھارتی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔اس احتجاج کی بنیادی وجہ مئی میں ہونے والے ایک اہم امتحان کا پرچہ لیک ہونا تھا، جس کے باعث تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ متعدد طلبہ نے مبینہ طور پر خودکشی بھی کی تھی۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے پرامن طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال کیا، تاہم اس کے باوجود بالی ووڈ اور کرکٹ کی کئی بڑی شخصیات نے اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جن فنکاروں اور کھلاڑیوں کو عوام نے شہرت عزت اور دولت دی، وہ آج نوجوانوں کی مشکلات پر ان کا ساتھ دینے اور آواز بلند کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ان کے مطابق اگر معروف شخصیات صرف سوشل میڈیا پر اخلاقی حمایت کا اظہار بھی کرتیں تو اس سے احتجاج کرنے والے طلبہ کا حوصلہ بڑھتا۔اس حوالے سے اداکار سلمان خان نے اپنے بیان میں طلبہ سے گھروں کو واپس جانے اور والدین کو پریشان نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صورتحال پر قابو پا لیں گے۔بھارتی اداکار انوپم کھیر نے طلبہ کے غصے کو جائز قرار دیتے ہوئے خبردار بھی کیا تھا کہ سیاسی عناصر اس تحریک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔دوسری جانب معروف اداکار عامر خان کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے اپنی فلم تھری ایڈیٹس کو سماجی کارکن سونم وانگچک کی زندگی سے منسلک قرار دینے کی تردید کی تھی۔ناقدین نے اداکاروں کے اس فعل کو احتجاجی تحریک سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش قرار دیا، خصوصاً اس وقت جب وانگچک نے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے طویل بھوک ہڑتال کی تھی۔علاوہ ازیں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ویرات کوہلی ان کی اہلیہ اداکارہ انوشکا شرما اور سابق کرکٹر سچن ٹنڈولکر بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہے۔سچن ٹنڈولکر نے ایک عمومی پیغام میں محنت، دیانت داری اور میرٹ کی حمایت کی، تاہم اپنے پیغام میں مودی حکومت یا طلبہ احتجاج کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔اس کے برعکس سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی ووڈ اداکاروں کی اس خاموشی پر کھل کر تنقید کی، جبکہ معروف اداکارہ شبانہ اعظمی نئی دہلی پہنچ کر احتجاج میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز سننا ضروری ہے اور ان کی امیدوں کو کچلنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔