طلبہ احتجاج: زخمی آن ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا

Wait 5 sec.

دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے ’سنسد چلو‘ احتجاج کے دوران تشدد کا شکار ہوئے آن ڈیوٹی پولیس اہلکار کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’آن ڈیوٹی پولیس اہلکار کو بھی عام شہریوں کی طرح زندگی اور شخصی آزادی کے بنیادی حق کا تحفظ فراہم کیا جائے۔‘‘ یہ عرضی زخمی اے ایس پی کیلاش سنگھ بسٹ، اے ایس آئی سندیپ، کانسٹیبل دھیرج اور اے ایس آئی ہیمندر راٹھی کے اہل خانہ کے اراکین لکشے سنگھ بسٹ، کنجل، نشا یادو اور اکشت راٹھی نے مشترکہ دور پر داخل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ مظاہروں سے وابستہ گائیڈلائنز طے کرتے وقت ان کا موقف بھی سنے۔مظاہرین کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، ایف آئی آر پر نہیں ہوگی تعزیری کارروائی، مرکز اور 7 ریاستوں کو نوٹسعرضی میں بتایا گیا ہے کہ 20 سے 25 جولائی 2026 کے درمیان جنتر منتر پر 20 ہزار سے زائد مظاہرین کی بھیڑ کو سنبھالنے کے لیے پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ 20 جولائی کو بیریکیڈس توڑے جانے اور تشدد کے دوران 130 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد 24 اور 25 جولائی کو بھیڑ کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا اور نوکیلی ٹائلوں سے حملے کیے گئے۔ اس میں کئی سینئر افسران شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ ایسے میں مجموعی طور پر زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد تقریباً 200 ہے۔عرضی گزاروں نے دلیل دی ہے کہ آئین کی دفعہ 21 (حق زندگی) اور دفعہ 14 (حق مساوات) آن ڈیوٹی پولیس اہلکاروں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ دفعہ 19 لوگوں کو احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن اس کی حدود ہیں۔ یہ قانون نافذ کرنے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔عرضی میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ زیر سماعت اصل مقدمے میں پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو بھی فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس سے مظاہرین کا ہی نہیں بلکہ زخمی پولیس اہلکاروں کا انسانی پہلو بھی سامنے آ سکے گا۔ عرضی گزاروں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فورسز کے خلاف تشدد بھڑکانے والوں کی سخت جوابدہی طے کرنے اور آن ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے نیشنل گائیڈلائنز جاری کیے جائیں۔