یوپی کی تمام نشستوں کی ووٹر فہرستوں کی جانچ کا حکم، کرناٹک میں 61 ہزار فارم 7 درخواستوں پر کانگریس کے سوالات

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس نے اتر پردیش اور کرناٹک میں ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے غلط استعمال پر الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے توجہ ہٹانے کی کوششوں سے چھپایا نہیں جا سکتا۔جے رام رمیش کے مطابق، الیکشن کمیشن نے اتر پردیش کی تمام 403 اسمبلی نشستوں کی انتخابی فہرستوں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی جانب سے بے ضابطگیوں کی نشان دہی کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے اعظم گڑھ کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں ایک ہی شخص کا نام ووٹر فہرست میں 13 مرتبہ درج پایا گیا۔ جے رام رمیش کے مطابق، صرف دو اسمبلی حلقوں میں ہی ہزاروں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے میں آٹھ جونیئر افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول اصل ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔کانگریس لیڈر نے کرناٹک میں ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے غلط استعمال کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کی قیادت میں کانگریس کے احتجاج کے باوجود بڑے پیمانے پر نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کا استعمال جاری ہے۔جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اب انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کی 61 ہزار درخواستیں انتخابی افسران کے نام پر جمع کرائی گئی ہیں، جن میں نام حذف کرنے کی کوئی وجہ درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب الیکشن کمیشن نے فارم 7 کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے 10 اکتوبر 2026 کو ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران (سی ای اوز) کو ایک خط بھیجا تھا۔جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے مداخلت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے چیف الیکشن کمشنر سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے کی بھی اپیل کی۔