ایران جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی حکام کے ایرانی دوروں نےثابت کیا امریکی دھمکیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔چار فریقی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت اور مسلح افواج کی طاقت سے خطے میں مثبت فضا پیدا ہوئی ہے مغربی ایشیا میں سلامتی کا تعلق خطے کے اندر سے ہی ہونا چاہیے علاقائی تعاون کا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی حکام کےدوروں نےثابت کیا امریکی دھمکیوں کی کوئی اہمیت نہیں، خطے کے مسائل کا حل چاروں ممالک کے باہمی تعاون میں مضمر ہے ایرانی قوم کی مزاحمت کے نتائج تیزی سے نمایاں اور ٹھوس شکل اختیار کر رہے ہیں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں مغربی ایشیا میں سلامتی کا تعلق خطے کے اندر سے ہی ہونا چاہیے۔محسن رضائی کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو روکا جانا چاہیے صیہونی حکومت کو جنوبی لبنان، جنوبی شام اور غزہ سے نکلنا ہو گا۔مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندوں کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتایرانی صدراس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں اختلافات ختم کرنے اور تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے ایران اسلامی ممالک کے اتحاد، سلامتی اور ترقی کے لیے ہر معاہدے کی حمایت کرے گا، اسلامی ممالک اختلافات بھلا کر مشترکہ مفاد اور خطے میں امن کےلیے مل کر کام کریں۔انہوں نے غزہ، لبنان اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلم امہ کے ملکر عدم تحفظ کا مقابلہ کرنے پر زور دیا اور کاہ کہ اسلامی ممالک مل کر حملوں اور عدم تحفظ کا مقابلہ کریں۔صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا ایران بین الاقوامی قانون کےتحت پُرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، ایران اسلامی ممالک سے تعلقات مضبوط بنانے اور خطے میں امن کیلئے تعاون بڑھانے کو تیار ہے۔