تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کےسربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو اسے درد ناک جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ابراہم عزیزی نے کہا امریکی حملے کی صورت میں تمام دستیاب فوجی صلاحیتیں استعمال کریں گے، ایران قومی مفادات اور فوجی حکمت عملی کے تحت جواب دے گا، این پی ٹی سے متعلق فیصلہ بھی ایران اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھ کر کرے گا۔گزشتہ روز انھوں نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی اور اعتماد بحال کرنا ہوگا، عزیزی نے کہا ’’ضمانتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری امریکیوں پر ہے۔ اعتماد بحال کرنا بھی انہی کا کام ہے اور انھیں قابلِ اعتماد، قابلِ عمل اور ناقابلِ تنسیخ ضمانتیں دینے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔‘‘جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نیا معاہدہ پیشانھوں نے کہا کہ ایران کو اس بات کی یقین دہانی درکار ہے کہ امریکا ماضی کی پالیسیوں کی طرف واپس نہیں جائے گا، اور ضمانتوں پر دستخط کرنے کے عمل سے امریکا کی ساکھ کو مزید نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔واضح رہے کہ قطری ثالثوں نے جنگ ختم کرنے کےلیے ایران کو نیا معاہدہ پیش کر دیا ہے، روئٹرز کے مطابق معاہدے کا مسودہ اتوار کو تہران کے حوالے کیا گیا اور ایران کا جواب ہفتے کے آخر میں متوقع ہے، اس نئے مسودے میں سات روز کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔